نئی دہلی: عالمی توانائی سپلائی میں رکاوٹ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے پس منظر میں حکومت نے یقین دلایا ہے کہ ملک میں ایل پی جی، پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل اور قدرتی گیس کی گھریلو فراہمی مستحکم ہے۔ تاہم شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں اضافی بکنگ نہ کریں اور ایندھن کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ یہ بات وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے جمعرات کو نئی دہلی میں مغربی ایشیا کی صورتحال سے متعلق بین الوزارتی پیش رفت پر مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ سجاتا شرما نے کہا کہ حالیہ دنوں میں گھبراہٹ کے باعث ایل پی جی سلنڈروں کی بکنگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ پینک بکنگ سے گریز کریں اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران جہاں ممکن ہو ایندھن کی بچت کریں۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور درآمدات
انہوں نے بتایا کہ بھارت اپنی ایل پی جی کی تقریباً 60 فیصد ضرورت درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ پہلے آبنائے ہرمز کے راستے آتا تھا۔ شرما کے مطابق جنگ کے 13ویں دن بھی تجارتی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز بند ہے۔ تاہم حکومت کی مداخلت کے بعد اب 70 فیصد سے زیادہ درآمدات متبادل راستوں سے بھارت پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی داخلی ریفائننگ صلاحیت اس صورتحال میں ایک مضبوط سہارا فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بھارت دنیا کا چوتھا بڑا تیل ریفائنر ہے اور روزانہ تقریباً 55 ملین بیرل خام تیل کی پروسیسنگ کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 9 مارچ کو ایسنشل کموڈیٹیز ایکٹ کے تحت جاری حکم کے بعد ریفائنریز نے ایل پی جی کی پیداوار بڑھا دی ہے اور اب گھریلو پیداوار میں 28 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ملک بھر میں ایندھن کی سپلائی برقرار
حکومت کے مطابق ملک بھر میں پیٹرول پمپس کا نیٹ ورک مستحکم ہے۔ تقریباً ایک لاکھ ریٹیل آؤٹ لیٹس بغیر کسی کمی کے کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح 25 ہزار ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے روزانہ تقریباً 50 لاکھ سلنڈروں کی فراہمی جاری ہے۔ شرما نے بتایا کہ کمرشل ایل پی جی کی فراہمی میں اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ایگزیکٹو ڈائریکٹروں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سپلائی کی تقسیم کی نگرانی کرے گی۔ ریاستی حکومتوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مستحق صارفین کی نشاندہی کریں تاکہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکا جا سکے۔
متبادل ایندھن کے استعمال کی حوصلہ افزائی
حکومت نے ایل پی جی اور گیس پر دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل ایندھن کے استعمال کو بھی فروغ دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی نے ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز کو ہدایت دی ہے کہ ہوٹل اور ریستوران شعبے کو ایک ماہ کے لیے بایوماس، آر ڈی ایف پیلیٹس، مٹی کا تیل یا کوئلہ بطور متبادل ایندھن استعمال کرنے کی عارضی اجازت دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اعلیٰ افسران روزانہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ایندھن کی فراہمی، ترجیحی تقسیم اور ضابطوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ضلع سطح پر کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں تاکہ ایندھن کی غیر قانونی منتقلی کو روکا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…
اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…
سری لنکا کی ناقص بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ…
سندھ کے پانی کی تقسیم پر پاکستان کی فوج اور پنجاب کو ذمہ دار قرار…
اسٹار لنک نیٹ ورک کو تیزی سے پھیلانے کے لیے اسپیس ایکس کی مسلسل سیٹلائٹ…
باجھانگ ضلع میں 42 سالہ خاتون بملہ دیوی کا بیمار کتے کو زندہ پل سے…