پارلیمنٹ کا مانسون سیشن، جو 21 جولائی سے شروع ہونے والا ہے، اس بار کافی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے،چونکہ ایک طرف جہاں بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت ایک بھاری قانون سازی ایجنڈے کے ساتھ پیش ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔اور خبر ہےکہ اس سیشن میں آٹھ نئے بلز متعارف کروانے اور زیر التوا انکم ٹیکس بل کو منظور کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ تاہم، اپوزیشن جماعتیں، خاص طور پر کانگریس، منی پور کی صورتحال، پہلگام دہشت گرد حملے، آپریشن سندور، اور بہار میں الیکشن کمیشن کے خصوصی انتخابی رولز کے جائزےجیسے معاملات پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ حکومتی ذرائع نے تسلیم کیا ہے کہ سیشن میں یہ مسائل غالب رہیں گے، جس سے پارلیمنٹ میں شدید بحث کی توقع ہے۔ منی پور میں صدر راج کی توسیع، جو ہر چھ ماہ بعد پارلیمنٹ سے منظوری مانگتی ہے، بھی ایک اہم نکتہ ہوگا، جہاں اپوزیشن وزیراعظم نریندر مودی سے منی پور کے تشدد پر وضاحت مانگ رہی ہے۔
اپوزیشن کا جارحانہ موقف اور اہم مسائل
اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس، نے پارلیمنٹ کے اس سیشن کو حکومت کے لیے مشکل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر کانگریس رہنما کوڈی کنیل سریش نے پہلگام حملے کو سیکورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے، جبکہ آپریشن سندور کے دوران طیاروں کے نقصانات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، اپوزیشن بہار میں ایس آئی آر مشق پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، جو الیکشن سے پہلے ووٹر لسٹوں کی تصدیق کے لیے کی جا رہی ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں، جیسے کہ ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے، آر جے ڈی، اور سی پی آئی، آپریشن سندور پر ایک خصوصی پارلیمنٹ سیشن کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں، لیکن حکومتی ذرائع نے اسے مسترد کر دیا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت قومی سلامتی کے مسائل کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جبکہ حکومت اپنی قانون سازی کی ترجیحات پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔
اس سیشن میں جہاں حکومت اپنی قانون سازی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر تی نظرآئے گی، وہیں اپوزیشن قومی سلامتی اور داخلی مسائل پر بحث کو ترجیح دینا چاہے گی۔ آپریشن سندور کے بعد بنائی گئی سات پارٹیوں کی مشترکہ وفود، جن کی قیادت ششی تھرور، روی شنکر پرساد، اور دیگر نے کی، عالمی سطح پر بھارت کے موقف کو اجاگر کرنے کے لیے بھیجے گئے، لیکن اپوزیشن نے اس عمل پر تنقید کی کہ اسے پارلیمنٹ میں بحث کے بغیر کیا گیا۔ کانگریس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے، جو اسے پاک-بھارت تنازع میں غیر ضروری مداخلت سمجھتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب مہم قرار دیتے ہوئے اپوزیشن سے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ سیشن سیاسی حکمت عملی اور قومی مفادات کے درمیان ایک پیچیدہ تقابل پیش کرتا ہے، جہاں دونوں فریق اپنے اپنے ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…