اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے آپریشن سندور کے حوالے سے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے مطالبات کے درمیان مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیکھاوت نے اتوار کو زور دے کر کہا کہ حکومت کے پاس ’’چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے‘‘ اور اپوزیشن کو مانسون سیشن کے دوران سوالات پوچھنے کا کافی موقع ملے گا، جو کہ کچھ ہی ہفتوں بعد ہے۔
تاہم بی جے پی لیڈر نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں آخر کیا جاننا چاہتی ہیں؟ کیوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ دنوں میں آپریشن سندور سمیت اہم قومی مسائل پر بڑے پیمانے پر بات کی ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس نے اتوار کو چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان کے بیان کے تناظر میں فوجی اور خارجہ پالیسی کی حکمت عملی پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
کانگریس پہلے یہ طے کرے کہ وہ جاننا کیا چاہتی ہے: شیکھاوت
کانگریس نے یہ بھی کہا کہ حکومت تمام سیاسی پارٹیوں اور ملک کے لوگوں کو اعتماد میں لے اور آپریشن سندور کے بعد ہندوستان کی دفاعی تیاریوں اور حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کرے۔ اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کلچر اینڈ ٹورزم کے مرکزی وزیر شیکھاوت نے کہا کہ ہندوستان کے پارلیمانی نظام میں ارکان کے لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں مسائل اٹھانے اور جوابات پانے کے پہلے سے ہی اچھے طریقۂ کار موجود ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’’مانسون سیشن اگلے 20-25 دنوں میں شروع ہونے والا ہے، ہر کسی کو اپنے مسائل اٹھانے کا موقع ملے گا۔‘‘ انھوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے کسی بھی سوال یا خدشے کو دور کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
بی جے پی لیڈر نے کہا ’’میرے خیال میں اپوزیشن کو پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ وزیراعظم سے کیا سننا چاہتے ہیں۔ اگر ان کا ارادہ واقعی جواب پانا ہے، تو پچھلے تین دنوں میں وزیر اعظم پہلے ہی ملک کے تین مختلف حصوں سے ملک کی موجودہ صور حال، آپریشن سندور اور اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام اہم مسائل پر تفصیل سے بات کر چکے ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…
آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…