سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پر بحث کرتے ہوئے۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت دراصل اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے وقف ترمیمی بل لے کر آئی ہے۔ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی نظریں وقف کی زمین پر ہیں۔ لیکن وقف کی زمین سے بڑا مسئلہ ملک کی زمین کا ہے جس پر چین نے اپنے گاؤں بسا لیے ہیں۔
بی جے پی اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے لائی ہے وقف ترمیمی بل: اکھلیش
ایوان میں اس بل پر بحث کے دوران اکھلیش نے کہا ’’ یہ ناکامیوں کو چھپانے والا بل ہے۔ اس حکومت نے نوٹ بندی کا فیصلہ بھی لیا تھا۔ لیکن آج بھی اتنی جگہوں سے نوٹ نکل رہے ہیں۔ کسانوں کے حوالے سے بھی یہ حکومت ناکام رہی ہے۔ مہنگائی کو لے کر بھی ناکامی ہی ہاتھ آئی ہے۔ کیا گنگا صاف ہو گئی ہے؟ کیا اسمارٹ سٹیز بن گئی ہیں؟ اس بار حکومت کی ناکامی کا پردہ وقف بل بن گیا ہے۔ جس کے لیے یہ فیصلہ ہونا ہے، اس کی رائے تک کو اہمیت نہیں دی گئی ہے۔‘‘
ایس پی صدر نے مزید کہا کہ یہ ملک سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھا ہے۔ عید کو ابھی دو دن ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم اس بار عید پر پابندی کیوں لگی تھی۔ منتری جی کو یہ بتانا چاہیے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی ہر نیا بل بنیادی طور پر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے لے کر آتی ہے۔
ایس پی صدر نے مہا کمبھ میں مرنے والوں اور لاپتہ ہونے والوں کی بات بھی کی
اکھلیش نے کہا کہ مہا کمبھ کو لے کر بی جے پی نے بڑے بڑے دعوے کیے ہیں، لیکن وہاں لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ بی جے پی اپنی ناکامی کو چھپا رہی ہے۔ حکومت کو کمبھ میں جان گنوانے والوں کے بارے میں بتانا چاہیے۔ حکوم ان 1000 ہندوؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرے جو کمبھ کے دوران لاپتہ ہوئے ہیں۔ میں بی جے پی کی سوچ پر روشنی ڈال رہا ہوں۔ مذہبی معاملات سے کاروبار نہیں کیا جا سکتا۔ کیا کمبھ کاروبار کی جگہ ہے؟
ایس پی صدر نے کہا کہ ’’کیا ریلوے کی زمینیں فروخت نہیں کی جا رہی ہیں؟ کیا دفاعی زمینیں فروخت نہیں ہو رہیں؟ وقف کی زمینیں بھی ہندوستان کی ہی ہیں۔ وقف اراضی سے بڑا مسئلہ وہ زمین ہے جس پر چین کا قبضہ ہے۔ وقف بل کے ذریعے مسلمانوں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ بل کے پیچھے نہ تو بی جے پی کی نیت ٹھیک ہے اور نہ ہی پالیسی۔ بی جے پی ایک غیر جمہوری پارٹی ہے۔‘‘
بی جے پی وقف کی زمینیں اپنے لوگوں میں بانٹنا چاہتی ہے: اکھلیش
اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی اپنے ووٹ بینک کو بچانے کے لیے یہ بل لائی ہے۔ زیادہ تر پارٹیاں اس بل کی مخالف کر رہی ہیں، لیکن بی جے پی یہ بل کیوں لائی ہے؟ بی جے پی جھوٹ بول رہی ہے۔ جب سے بی جے پی کے ووٹوں میں کمی ہوئی ہے، تب سے بی جے پی انھیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کی نظر وقف کی زمینوں پر ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو وہ زمینیں دینا چاہتی ہے۔ یہ بل ووٹ بینک بنائے رکھنے کے لیے لایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی بی جے پی اس بل کے ذریعے مسلمانوں کو تقسیم بھی کرنا چاہتی ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…