قومی

GIFT City emerges as top financial center: گفٹ سٹی بھارت کے پیچیدہ ریگولیٹری نظام میں فیملی آفسز کے لیے اہم مالیاتی مرکز کے طور پر ابھرا

گجرات انٹرنیشنل فنانس ٹیک-سٹی (گفٹ سٹی) بھارت میں انتہائی امیر خاندانوں اور کاروباری افراد کے لیے فیملی آفسز کے قیام کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے، جیسا کہ جولیئس بیئر اور ارنسٹ اینڈ ینگ (ای وائی) کی مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ گفٹ سٹی اپنے ٹیکس دوستانہ ڈھانچے اور انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹرز اتھارٹی (آئی ایف ایس سی اے) کے تحت آسان ریگولیٹری فریم ورک کی بدولت فیملی آفسز کے لیے ایک پرکشش مقام بن رہا ہے۔ یہ عالمی مارکیٹوں تک رسائی فراہم کرتا ہے اور پیچیدہ بھارتی ریگولیٹری ماحول سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے، جہاں قانونی اور تعمیلی رکاوٹیں اب بھی ایک چیلنج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، فیملی آفسز اپنی سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو پائیدار بنانے کے لیے ٹیکس کے اثرات سے آگاہی پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں، اور گفٹ سٹی اس سلسلے میں ایک موثر پلیٹ فارم پیش کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں فیملی آفسز کی تعداد 2018 میں 45 سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 300 ہو گئی ہے، جو عالمی سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے گفٹ سٹی کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ گفٹ سٹی نہ صرف ٹیکس کی بچت اور آپریشنل فوائد فراہم کرتا ہے بلکہ کراس بارڈر سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے متبادل سرمایہ کاری فنڈز (اے آئی ایف) جیسے ڈھانچوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔ تاہم، ریگولیٹری چیلنجز جیسے کہ اوورسیز پورٹ فولیو انویسٹمنٹ (او پی آئی) اور اوورسیز ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (او ڈی آئی) کے درمیان واضح فرق کی کمی اب بھی رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس کے باوجود، حکومت کی طرف سے گفٹ سٹی کو عالمی معیار کا مالیاتی مرکز بنانے کی کوششیں، جیسے کہ تیزی سے جاری ہونے والےلائسنس اور مکمل غیر ملکی ملکیت کی اجازت، اسے عالمی فنانشل سروسز پرووائیڈرز کے لیے ایک پرکشش مقام بنا رہی ہیں۔

اگرچہ گفٹ سٹی مواقع کی ایک وسیع رینج پیش کرتا ہے، لیکن اس کی ترقی ابھی جاری ہے، اور کچھ چیلنجز جیسے کہ محدود نفاذی اقدامات اور نئے منظرناموں میں تعمیلی توقعات کے معیارات کی کمی اب بھی موجود ہے۔ فیملی آفسز ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کر رہے ہیں جو آئی ایف ایس سی اے اور روایتی بھارتی مالیاتی ضوابط دونوں کو سمجھتے ہیں۔ جولیئس بیئر-ای وائی رپورٹ نے زور دیا کہ گفٹ سٹی کے ریگولیٹری فریم ورک کے ارتقاء کے ساتھ، یہ مستقبل میں مزید فیملی آفسز کو راغب کرے گا، جو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے والا اور ٹیکس کے لحاظ سے موثر پلیٹ فارم تلاش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پر پوسٹس سے پتہ چلتا ہے کہ گفٹ سٹی کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ بھارت کے پیچیدہ ریگولیٹری نظام سے گزرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس طرح، گفٹ سٹی بھارت کے مالیاتی منظر نامے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

JDU Expels Anant Singh Neelam Devi For 6 Years: بہار میں جے ڈی یو کی بڑی کارروائی، اننت سنگھ اور نیلم دیوی 6 سال کے لیے پارٹی سے خارج

جن سوراج کے امیدوار کی حمایت کرنا پڑا مہنگا، قانون ساز کونسل انتخابات میں کراس…

27 minutes ago

Dewas Spurious Liquor Tragedy: مدھیہ پردیش کے دیواس میں مشتبہ زہریلی شراب سے 13 اموات، چار دوستوں کی ایک ساتھ موت سے مچی سنسنی

صرف 20 دن کے اندر چاندانا اور بنجانا گاؤں میں 13 افراد کی مشتبہ حالات…

2 hours ago

INDIA Alliance Mega Rally: ایس آئی آر کے معاملے پر سنجے دت نے کھولا محاذ، یکم نومبر کو دہلی میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی

کانگریس کے ہریانہ انچارج نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر کے…

3 hours ago