تحریر: گوتم اڈانی
میں ہمیشہ دو دنیاؤں کے درمیان جیتا رہا ہوں۔ ایک کام کی دنیا اور دوسری خاندان کی اور پہلی دنیا میں جو کچھ بھی میں نے تعمیر کیا، وہ دراصل دوسری دنیا سے حاصل ہونے والی طاقت ہی کی بدولت ممکن ہوا۔ اسی لیے عالمی یوم خواتین کے موقع پر میں ان خواتین کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے میری زندگی اور سفر کو شکل دی۔
ماں کی گود-میری پہلی درسگاہ
دنیا نے مجھے کچھ سکھانے سے پہلے میری والدہ شانتابین نے مجھے سکھایا۔ میری پہلی درسگاہ کوئی اسکول نہیں تھی بلکہ میری ماں کی گود تھی۔ وہیں میں نے پہلی مرتبہ ہمارے قدیم رزمیہ قصوں کی کہانیاں سنیں۔ ایسی کہانیاں جن میں ایسے سبق پوشیدہ تھے جو کسی نصابی کتاب سے کہیں زیادہ گہرے تھے۔ ان میں سے ایک کہانی میرے دل میں ہمیشہ کے لیے بس گئی۔ یہ کہانی رامائن کی ایک عظیم ماں کوشلیا کی تھی۔ایک ایسی ماں جس نے اپنے بیٹے بھگوان رام کو اپنی سلطنت کے حق سے دستبردار ہوتے اور ایودھیا چھوڑ کر چودہ سالہ جلاوطنی کی طرف جاتے دیکھا۔ بچپن میں میں اس قربانی کی گہرائی کو پوری طرح نہیں سمجھ پایا۔ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک ماں کے لیے اپنے بیٹے کو غیر یقینی مستقبل کی طرف جاتے دیکھنا کیا معنی رکھتا ہے۔
جب میں نے گھر چھوڑا
کئی سال بعد میں اس لمحے کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنے لگا۔ سولہ برس کی عمر میں میں تقریباً خالی جیب کے ساتھ ممبئی کے لیے گھر سے نکل پڑا۔ میرے پاس صرف ایک نوجوان کا یہ یقین تھا کہ اسے اپنی زندگی میں کچھ خود بنا کر دکھانا ہے۔ میری ماں نے مجھے جانے دیا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس لمحے کے بارے میں کئی بار سوچا ہے، ایک ماں جس نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو سب کچھ دیا اور پھر اتنا حوصلہ بھی پایا کہ اسے نامعلوم راستے کی طرف بڑھنے دے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ شاید اس لمحے انہیں وہی کہانیاں یاد آئی ہوں جو وہ بچپن میں مجھے سنایا کرتی تھیں۔ شاید ہر ہندوستانی ماں کے اندر کوشلیا کی کچھ نہ کچھ جھلک ہوتی ہے، وہ خاموش طاقت جو اپنے بچے کو گھر کی حفاظت سے نکل کر اپنی تقدیر کی طرف بڑھنے دیتی ہے۔
کہانیاں جو تہذیب کو زندہ رکھتی ہیں
کئی دہائیوں بعد جب ہم نے اڈانی گروپ کی جانب سے اڈانی انڈولوجی انشیٹیو کا آغاز کیا، اسی دن جب رام مندر کے افتتاح کی تقریب منعقد ہوئی تو مجھے دوبارہ اپنی ماں کے ساتھ گزارے وہ بچپن کے لمحات یاد آئے۔ ان کہانیوں نے صرف ایک بچے کو محظوظ نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے میرے اندر یہ یقین پیدا کیا کہ تہذیبیں اس وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک ان کی اقدار ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اور وقت کے ساتھ میں ایک بات پر گہرا یقین کرنے لگا ہوں۔ ہمارے ملک میں بہت سے خوبصورت قصہ گو موجود ہیں، مگر ہماری رزمیہ روایتوں کی سب سے بڑی داستان گو ایک ہندوستانی ماں ہی ہوتی ہے۔ انہی کہانیوں کے ذریعے مائیں خاموشی سے ہمت، قربانی، فرض اور ایمان جیسی اقدار اپنے بچوں میں منتقل کرتی ہیں وہ اقدار جو دنیا کی کامیابی کے پیمانوں سے بہت پہلے ایک زندگی کو شکل دیتی ہیں۔
میری شریک حیات-میرے ضمیر کی نگہبان
اگر میری ماں نے مجھے اقدار دیں تو میری اہلیہ پریتی میرے ضمیر کی نگہبان رہی ہیں۔ جب ہماری شادی ہوئی تو پریتی ایک مستند ڈینٹسٹ تھیں اور ان کے سامنے ایک روشن پیشہ ورانہ مستقبل تھا۔ مگر انہوں نے ایک بالکل مختلف راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے اپنے پیشے اور کسی حد تک اپنی ذاتی شناخت سے بھی پیچھے ہٹ کر اپنی زندگی اڈانی فاؤنڈیشن کی تعمیر کے لیے وقف کردی۔ جو کام ایک چھوٹی سی پہل کے طور پر شروع ہوا تھا، آج وہ ہندوستان کی 22 ریاستوں میں تعلیم، صحت، پائیدار روزگار اور سماجی ترقی کے میدانوں میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر چکا ہے۔ لیکن مجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیز اعداد و شمار نہیں ہیں۔
ہر شام کی کہانیاں
ہر شام جب میں طویل کام کے بعد گھر لوٹتا ہوں تو پریتی کے پاس عموماً ایک نئی کہانی ہوتی ہے۔ کسی ایسے بچے کی کہانی جس کا مستقبل بدل گیا۔ کسی کسان کی کہانی جسے اب امید نظر آنے لگی ہے۔ کسی لڑکی کی کہانی جس نے اپنے یقین کے لیے آواز اٹھائی۔ یا کسی ایسے خاندان کی کہانی جسے اب نئے مواقع میسر آئے ہیں۔ چاہے میں کتنی ہی دیر سے گھر کیوں نہ پہنچوں، دن کے اختتام کا بہترین طریقہ یہی ہوتا ہے کہ میں یہ کہانیاں سنوں۔ کیونکہ یہ مجھے یاد دلاتی ہیں کہ ترقی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ ہم نے کیا تعمیر کیا بلکہ اس بات سے کہ ہم نے کتنی زندگیاں بہتر بنائیں۔ عوامی زندگی میں لوگ اکثر رہنما کو دیکھتے ہیں، مگر اس شریکِ حیات کو نہیں دیکھتے جو دراصل سمت دکھانے والا قطب نما ہوتی ہے۔ پریتی میرے لیے ہمیشہ وہی قطب نما رہی ہیں۔
بیٹوں کی بہوئیں نہیں، بیٹیاں
میرے دو بیٹے ہیں کرن اور جیت۔ کئی سالوں تک میں خاموشی سے سوچتا تھا کہ اگر میری ایک بیٹی ہوتی تو کیسا ہوتا۔ اسی لیے جب پریدھی اور دیوا ہمارے خاندان کا حصہ بنیں تو وہ صرف بہوئیں بن کر نہیں آئیں بلکہ پہلے دن سے ہماری بیٹیاں بن گئیں۔ پریدھی ایک شاندار وکیل ہیں، بہت سنجیدہ، ذہین اور مختلف موضوعات پر گہری گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھنے والی۔ ان کے ساتھ گفتگو ہمیشہ فکری طور پر تازگی بخش ہوتی ہے کیونکہ وہ ہر موضوع میں وضاحت اور تجسس دونوں لے کر آتی ہیں۔ دیوا اپنے آپ کو ایک بالکل مختلف انداز میں ظاہر کرتی ہیں۔ وہ نہایت تخلیقی ڈیزائنر ہیں اور اپنی ہر تخلیق میں فن اور تخیل کو شامل کرتی ہیں۔ مگر جس چیز کی میں سب سے زیادہ قدر کرتا ہوں وہ ان کی ہمدردی اور خصوصی افراد کے ساتھ کام کرنے کا جذبہ ہے۔
ہمارے گھر میں ہر دن خواتین کا دن
ان دونوں نے اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے خاندان میں ایک اور قیمتی چیز بھی شامل کی ہے نئے خیالات، تازہ نقطۂ نظر اور نئی توانائی اور جب سے کرن کی بیٹیوں کی آمد ہوئی ہے، ہمارے گھر کا توازن بھی بدل گیا ہے۔ کیونکہ آج ہمارے نو افراد کے خاندان میں چھ خواتین ہیں۔ یعنی سیدھی سی بات ہے کہ ہمارے گھر میں ہر دن خواتین کا دن ہوتا ہے۔
میری زندگی کی تین ننھی روشنیاں
اب میں اپنی آنکھوں کے تین تاروں اپنی تین پوتیوں کی بات کرتا ہوں۔ میرے ساتھی جانتے ہیں کہ دفتر میں میرے ساتھ گفتگو اکثر نہایت سنجیدہ ہوتی ہے۔ مگر ایک ایسی مداخلت ہے جسے سب پہچانتے ہیں وہ لمحہ جب میری پوتیاں دروازے سے اندر داخل ہوتی ہیں۔ اسی لمحے میرے اندر کا چیئرمین غائب ہو جاتا ہے اور ایک دادا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ ان کی ہنسی کسی بھی بورڈ روم کی سنجیدگی کو ختم کر دیتی ہے۔ ان کا تجسس مجھے یاد دلاتا ہے کہ ایک بچے کی نظر سے دنیا کتنی سادہ اور خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔ اور جب ان کے ننھے ہاتھ میرے ہاتھوں کو تھامتے ہیں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ آنے والی نسل ہم پر کتنا بڑا اعتماد رکھتی ہے۔
ہم کیوں تعمیر کرتے ہیں؟
ایک انسان اپنی زندگی بندرگاہیں، ہوائی اڈے، بجلی گھر اور کاروبار بنانے میں گزار سکتا ہے۔ وہ دہائیوں تک وسعت، خواہش اور ترقی کے پیچھے دوڑ سکتا ہے۔ لیکن جب ایک پوتی اس کی گود میں آ کر بیٹھتی ہے اور اس کی آنکھوں میں مکمل اعتماد کے ساتھ دیکھتی ہے تو سب کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ ہم کیوں تعمیر کرتے ہیں؟ اس لیے کہ جو دنیا ہم بنا رہے ہیں وہ اس ملک میں پروان چڑھنے والے ہر بچے کے لیے قابل فخر اور قابلِ اعتماد ہونی چاہیے۔
ایک سادہ سا شکریہ
آج، اس یوم خواتین کے موقع پر میں صرف شکریہ کہنا چاہتا ہوں۔ اپنی ماں کا جنہوں نے مجھے وہ اقدار دیں جنہوں نے میری زندگی کو شکل دی۔ پریتی کا جو میرے ضمیر کی آواز بنیں اور ایک ایسی خدمت کے پیچھے خاموش قوت رہیں جس نے لاکھوں زندگیاں بدلی ہیں۔ پریدھی اور دیوا کا جنہوں نے ہمارے خاندان میں طاقت، صلاحیت اور بصیرت کا اضافہ کیا اور اپنی پوتیوں کا جو مجھے ہر روز یاد دلاتی ہیں کہ مستقبل کو اگلی نسل کے لیے بہتر بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر دنیا میرے سفر سے کوئی ایک بات یاد رکھے تو میں کہنا چاہوں گا کہ ’’زندگی کی مضبوط ترین بنیادیں کنکریٹ اور فولاد سے نہیں بنتیں، بلکہ ان لوگوں سے بنتی ہیں جو ہمیں وہ بناتے ہیں جو ہم ہوتے ہیں۔
تمام خواتین کو یوم خواتین مبارک! 🌸
بھارت ایکسپریس اردو۔
صدر دروپدی مرمو نے کیوڈیا میں منعقدہ تقریب میں فلمی شخصیات کو قومی اعزازات سے…
ڈیوائن پبلک اسکول کی طالبہ کی وسرجن تقریب کے دوران اچانک طبیعت بگڑی، بعد میں…
وزیر اعظم نریندر مودی نے رِگ وید کا مقدس منتر شیئر کرتے ہوئے گناہوں سے…
پانچ روزہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں اتر پردیش کی صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، دستکاری اور…
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے زیر اہتمام ’بزم صحافت‘ کے تحت منعقدہ ’اردو صحافت…