قومی

Gaurav Gogoi Files Nomination From Jorhat: آسام اسمبلی انتخابات: رکن پارلیمنٹ سے رکن اسمبلی بننے کی تیاری، گورو گوگوئی نے جورہاٹ سے داخل کی نامزدگی

گوہاٹی: انڈین نیشنل کانگریس کے صدر (آسام یونٹ) گورو گوگوئی نے پیر کے روز اسمبلی انتخابات کے لیے جورہاٹ نشست سے اپنا نامزدگی پرچہ داخل کر دیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب وہ ریاستی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے ہیں اور رکن پارلیمنٹ سے رکن اسمبلی بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نامزدگی داخل کرنے سے قبل انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخاب آسام کی سیاست کو نئی سمت دینے کا سنہری موقع ہے۔ گوگوئی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ریاست کی سیاست کا معیار اس حد تک گر چکا ہے کہ باہر جا کر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاست کو صاف ستھرا بنانے کے لیے آگے آئیں اور بہتر نظام کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو خواتین کو سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے لیے کسی سیاسی ریلی یا جلسے میں زبردستی شرکت نہیں کرنا پڑے گی۔

انہوں نے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر خواتین کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ دینے کے بدلے خواتین کو زبردستی پارٹی کی تقریبات میں بلایا جاتا ہے۔ گوگوئی نے کہا کہ اسکیموں کا پیسہ عوام کا ہے، کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں، اس لیے اس کا استعمال شفاف طریقے سے ہونا چاہیے۔ جورہاٹ اسمبلی نشست پر گوگوئی کا مقابلہ بی جے پی کے سینئر لیڈر ہتیندر ناتھ گوسوامی سے ہوگا، جو اس حلقے کی پانچ بار نمائندگی کر چکے ہیں۔ گو سوامی 1991 سے مسلسل تین مرتبہ آسوم گن پریشد (اے جی پی) کے امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے، جبکہ 2016 کے بعد دو بار بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب ہو چکے ہیں، جس سے مقابلہ خاصا دلچسپ ہو گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق نامزدگی پرچوں کی جانچ 24 مارچ کو کی جائے گی جبکہ نام واپس لینے کی آخری تاریخ 26 مارچ مقرر کی گئی ہے۔ انتخابی مہم میں تیزی آ چکی ہے اور تمام بڑی جماعتیں اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔

واضح رہے کہ آسام میں کانگریس نے چھ جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا ہے۔ جس میں رائے زور دل، آسام جاتی وادی پارٹی (اے جے پی)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) لبریشن، اور آل پارٹی ہل لیڈرز کانفرنس (اے پی ایچ ایل سی) شامل ہیں۔ اس اتحاد کو بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ریاست کی تمام 126 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار کا انتخاب نہ صرف اقتدار کی جنگ ہے بلکہ آسام کی سیاسی سمت کا تعین بھی کرے گا، جس پر پورے ملک کی نظریں مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

9 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

9 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

10 hours ago