قومی

Workers Leaving Surat: سورت میں شروع ہوئی ’گاؤں چلو آندولن‘، مزدوروں کے استحصال سے پریشان یوپی اور بہار کے مزدور گھروں کو لوٹنے لگے، ریلوے اسٹیشنوں پر بھیڑ

دنیا بھر میں ڈائمنڈ کی صنعت کے مرکز کے طور پر مشہور سورت کی چمک دمک کے پیچھے اتر پردیش اور بہار کے ان مزدوروں کی محنت بھی شامل ہے، جو دن رات کام کرکے شہر کی صنعتوں کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ شدید گرمی، موسلادھار بارش اور سیلاب جیسے حالات میں بھی ان مزدوروں نے کام جاری رکھا، لیکن اب یہی محنت کش سورت چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، فیکٹریوں میں مبینہ استحصال اور سخت شرائط سے تنگ آکر مزدوروں نے ’گاؤں چلوآندولن‘ شروع کردی ہے۔ دیوالی اور چھٹھ سے پہلے ہی ہزاروں مزدور اپنا سامان سمیٹ کر آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہورہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سورت کے ریلوے اسٹیشنوں پر زبردست بھیڑ دیکھی جارہی ہے اور پلیٹ فارم مسافروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ مزدوروں کا الزام ہے کہ سورت کی فیکٹریوں میں ان کا بڑے پیمانے پر استحصال کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق، نہ تو انہیں وقت پر تنخواہ ملتی ہے اور نہ ہی ہفتہ وار چھٹی دی جاتی ہے۔ ان سے پورے مہینے، یعنی 30 دن کام لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی مزدور کام کرنے سے انکار کرتا ہے تو اس کی تنخواہ روک لی جاتی ہے اور اسے دھکے دے کر فیکٹری سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔

’ہم مہینے میں صرف 26 دن کام کریں گے‘

سورت کے فیکٹری مالکان سے ناراض مزدوروں کا کہنا ہے کہ ان پر مسلسل 30 دن کام کرنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ مزدوروں کے مطابق، جب انہوں نے مہینے میں 26 دن ڈیوٹی کرنے کی بات رکھی تو انہیں فیکٹری کے گیٹ سے ہی باہر نکال دیا گیا۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ وہ اب اسی وقت واپس کام پر آئیں گے جب فیکٹری مالکان کو ان کی ضرورت محسوس ہوگی اور وہ خود انہیں بلائیں گے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ مہینے کے پورے 30 دن کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مزدوروں کے مطابق، ایک طرف ان پر پورا مہینہ کام کرنے کا دباؤ رہتا ہے، تو دوسری طرف روزانہ 12 گھنٹے تک کام کرنا پڑتا ہے۔ اس صورت حال نے انہیں شدید جسمانی اور ذہنی پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

لیبر یونین بھی مزدوروں کی حمایت میں اتری

مزدوروں کی ’گاؤں چلو آندولن‘ کو اب لیبر یونین کی حمایت بھی حاصل ہوگئی ہے۔ یونین کے نمائندے اجے ڈی دوبے کے مطابق، استحصال سے تنگ آکر لاکھوں مزدور اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونین کی جانب سے ریلوے اسٹیشنوں پر واپس جانے والے مزدوروں کو پانی اور بسکٹ فراہم کیے جارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فیکٹری مالکان کے خلاف احتجاج بھی درج کرایا جارہا ہے۔

’یوپی اور بہار کے مزدور ٹیکسٹائل صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں‘

لیبر یونین کے نمائندے اجے ڈی دوبے نے کہا کہ اتر پردیش اور بہار سے آنے والے مزدور سورت کی کڑھائی اور ٹیکسٹائل صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کے مطابق، اگر فیکٹری مالکان مزدوروں کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش نہیں آئیں گے تو وہ دن دور نہیں جب سورت کی چمکتی دمکتی صنعتوں پر تالے لگ جائیں گے۔ مزدوروں کی بڑے پیمانے پر واپسی نے سورت کی صنعتی سرگرمیوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے حالات پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Retail Inflation: مہنگائی نے بڑھائی لوگوں کی پریشانی، خوردہ مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی

ستمبر 2026 میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.54 فیصد ہوگئی۔ سبزیوں سمیت کھانے…

32 minutes ago

Delhi Metro Station Closure: دہلی میٹرو اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ جانیں پولیس، ڈی ایم آر سی اور قانون کی مکمل کارروائی

دہلی میں احتجاج اور مارچ کے دوران میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے اچانک…

1 hour ago