وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: بنگلورو میں قائم نجی خلائی اسٹارٹ اپ گلیکسی آئی (GalaxyEye) کے تیار کردہ سیٹلائٹ مشن درشٹی کو اتوار کے روز فالکن 9 راکٹ کے ذریعے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا گیا۔ اس سیٹلائٹ کی مدد سے خراب موسمی حالات، قدرتی آفات کے اثرات، زراعت اور سرحدی نگرانی سے متعلق تصاویر زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کی جا سکیں گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گلیکسی آئی کی ٹیم کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں۔
وزیر اعظم مودی نے دی مبارکباد
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں کہا کہ گلیکسی آئی کا مشن درشٹی خلائی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ دنیا کے پہلے آپٹو سار سیٹلائٹ اور بھارت میں تیار کردہ سب سے بڑے نجی سیٹلائٹ کی کامیاب لانچنگ ہمارے نوجوانوں کے اختراع اور قوم کی تعمیر کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کمپنی کے بانیوں اور پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی۔
سیٹلائٹ کی لانچنگ اور خصوصیات
اتوار کو 190 کلوگرام وزنی مشن درشٹی کو کیلیفورنیا سے خلا میں بھیجا گیا۔ یہ کسی بھی بھارتی نجی کمپنی کی جانب سے تیار کیا گیا اب تک کا سب سے بڑا سیٹلائٹ ہے۔ اس سیٹلائٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایک ہی پلیٹ فارم پر ملٹی اسپیکٹرل کیمرہ اور سنتھیٹک اپرچر ریڈار (SAR) امیجر نصب کیا گیا ہے، جو اسے دیگر سیٹلائٹس سے منفرد بناتا ہے۔
کیا ہے آپٹو سار ٹیکنالوجی؟
مشن درشٹی کی بنیاد ’آپٹو سار‘ نامی ایک جدید ہائبرڈ نظام پر ہے، جو آپٹیکل امیجنگ اور سنتھیٹک اپرچر ریڈار کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔ عام طور پر سیٹلائٹس یا تو آپٹیکل سینسر استعمال کرتے ہیں یا ریڈار، لیکن یہ نئی ٹیکنالوجی دونوں کو یکجا کرتی ہے تاکہ بہتر اور مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔
آپٹیکل اور ریڈار نظام کا فرق
آپٹیکل نظام عام تصاویر کی طرح واضح اور رنگین فوٹو فراہم کرتا ہے، لیکن بادلوں یا اندھیرے میں اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، ریڈار نظام ریڈیو لہروں کے ذریعے بادلوں کے پار بھی دیکھ سکتا ہے اور رات میں بھی کام کرتا ہے، تاہم اس کی تصاویر نسبتاً کم واضح ہوتی ہیں۔
جدید امتزاج سے بہتر نتائج
آپٹو سار ٹیکنالوجی ان دونوں نظاموں کو یکجا کر کے ایک ہی وقت میں ڈیٹا حاصل کرتی ہے اور اسے ایک مربوط تصویر میں تبدیل کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہر موسم میں، حتیٰ کہ بادلوں کی موجودگی میں بھی، زمین کی انتہائی واضح اور تفصیلی تصاویر حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سیٹلائٹ بھارت کے ہائی ریزولوشن والے سیٹلائٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔
عالمی شراکت داری کی اہمیت
اس کامیاب لانچنگ سے بھارت کی خلائی صنعت میں عالمی شراکت داری کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ اسپیس ایکس کی لانچ خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی اسٹارٹ اپس اب جدید پے لوڈ کی تیاری پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں اور خلا تک تیز اور لچکدار رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
خلائی شعبے میں نئی تبدیلی
مشن درشٹی بھارت کے خلائی شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جہاں اب سرکاری قیادت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی اختراعات بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ جیسے ہی گلیکسی آئی اس سیٹلائٹ کی ڈیٹا صلاحیتوں کو فعال کرے گا، یہ مشن زمین کی نگرانی کے طریقوں کو بدل سکتا ہے اور ہر وقت، ہر موسم میں زیادہ واضح اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…