نئی دہلی: نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن، کھاد اور سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور اتار چڑھاؤ ہندوستان کے لیے سب سے بڑا بیرونی معاشی چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے سبب عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس کے اثرات ہندوستانی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ 37ویں SIDBI فاؤنڈیشن ڈے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ خام تیل کی بین الاقوامی قیمتیں مسلسل بدل رہی ہیں۔ ایک ہفتے میں ایک قیمت اور اگلے ہفتے دوسری قیمت سامنے آجاتی ہے، یہی صورتحال گزشتہ تقریباً 80 سے 90 دنوں سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس وقت تین بڑے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جنہیں انہوں نے ’’تین ایف‘‘ یعنی Fuel، Fertilizer اور Forex قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’’ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، کھاد کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور سونے کی مہنگی خریداری زرمبادلہ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان تمام ادائیگیوں کے لیے فارن ایکسچینج درکار ہوتا ہے، کیونکہ یہاں روپے میں تجارت نہیں ہوتی۔‘‘
مغربی ایشیا بحران کے معاشی اثرات
نرملا سیتا رمن نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال صرف جغرافیائی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے براہ راست معاشی اثرات بھی سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کے باعث ایندھن کی لاگت بڑھ سکتی ہے، کارگو کی ترسیل میں تاخیر ہوسکتی ہے، شپنگ مہنگی ہوسکتی ہے، خام مال کی قلت پیدا ہوسکتی ہے، ورکنگ کیپیٹل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور برآمدی آرڈرز میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح شہریوں کا تحفظ، ایم ایس ایم ایز کی مدد، سپلائی چین کو جاری رکھنا اور معاشی استحکام برقرار رکھنا ہے۔
ہندوستانی معیشت اب بھی مضبوط
انہوں نے کہا کہ بیرونی دباؤ کے باوجود ہندوستان کی داخلی معیشت مضبوط اور مثبت ہے۔ ان کے مطابق 2025-26 میں جی ایس ٹی وصولی 22 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی۔ گھریلو ٹریکٹر فروخت میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔ مسافر گاڑیوں کی فروخت میں 25 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقے ہندوستان کی کامیابیوں کو کمزور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور خوف پھیلانے والی منفی فضا بناتے ہیں، جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
ٹیکس میں رعایت اور قرض سہولت
نرملا سیتا رمن نے بتایا کہ عالمی خام تیل کی قیمتوں کے اثرات سے عوام اور کاروبار کو بچانے کے لیے حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی، جس سے سرکار کو ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے ریونیو کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز کے لیے Emergency Credit Liquidity Guarantee Scheme 5.0 کے تحت اضافی 2.55 لاکھ کروڑ روپے کے قرض کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، جس پر حکومت کی 100 فیصد گارنٹی ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…