نئی دہلی: بی جے پی لیڈر راجیشور سنگھ نے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر بعض فلموں اور مواد پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی خاص ذات یا برادری کو توہین آمیز انداز میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ‘گھوس خور پنڈت’ جیسے عنوانات کے تحت فلمیں بنانا نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ انتہائی قابلِ اعتراض عمل ہے۔
راجیشور سنگھ نے کہا کہ اس طرح کی کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے اور سماج مخالف ذہنیت رکھنے والے عناصر کے خلاف اجتماعی طور پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے گھناونے اقدامات سماج اور قوم کو توڑنے کی ایک منظم سازش کا حصہ ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آج اگر ایک ذات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل کسی دوسری ذات یا برادری کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا متحد ہو کرسخت جواب دیا جائے، تاکہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچے۔
راجیشور سنگھ نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت سماجی ہم آہنگی، باہمی احترام اور آئینی اقدار میں مضمر ہے، نہ کہ تقسیم اور نفرت میں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ذات پات پر مبنی نفرت کی مخالفت کریں اور سماجی اتحاد کو فروغ دیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان معاملات میں ملوث افراد کے خلاف مناسب سزا کو یقینی بنانے کے لیے اتر پردیش پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سماج پر زور دیا کہ وہ کھلے عام ایسے لوگوں کی مخالفت کرے، تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کے سماج اور قوم مخالف اقدامات کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…