قومی

Gratuity New Rule: خواتین کیلئے نائٹ شفٹ کی آزادی، اوور ٹائم کا ڈبل معاوضہ ، ایک سال میں گریچویٹی، ملک میں نئے لیبر کوڈ نافذ

مودی حکومت نے ملک کی روزگار اور صنعتی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی کرتے ہوئے 21 نومبر سے چار نئے لیبر کوڈ نافذ کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ کئی دہائیوں سے رائج 29 پرانے لیبر قوانین ختم ہو گئے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اصلاحات آتم نربھر بھارت کے مقصد کو رفتار دیں گی اور ملک کے 40 کروڑ سے زائد مزدوروں کو پہلی بار جامع سماجی تحفظ کا دائرہ فراہم کریں گی۔

جدید ضروریات کے مطابق قانون سازی

ملک میں زیادہ تر لیبر قوانین 1930 سے 1950 کے درمیان بنائے گئے تھے، جن میں گِگ ورکرز، پلیٹ فارم ورکرز، آن لائن ڈلیوری پارٹنر، ایپ بیسڈ ورکرز اور مہاجر مزدور شامل نہیں تھے۔ نئے لیبر کوڈ انہیں قانونی شناخت اور سماجی تحفظ دیتے ہیں، جو آج کے کام کے کلچر کی اہم ضرورت تھی۔

ملازمت کا لیٹر اور وقت پر تنخواہ لازمی

اب ہر کمپنی کیلئے لازم ہوگا کہ ملازم کی بھرتی پر اپائنٹمنٹ لیٹر دئے جائے گے۔ ملک بھر میں کم از کم تنخواہ (Minimum Wage) نافذ ہوگی اور وقت پر تنخواہ نہ دینا جرم تصور ہوگا۔ اس سے روزگار میں شفافیت بڑھے گی۔

صحت کی مفت سہولت

40 سال سے زائد عمر کے ہر ملازم کو سال میں ایک مرتبہ مفت میڈیکل چیک ہوگا۔ کان کنی، کنسٹرکشن اور کیمیکل صنعتوں میں کام کرنے والوں کیلئے خصوصی ہیلتھ سیفٹی لازمی ہوگی۔

صرف ایک سال میں گریچویٹی

اب گریچویٹی کے لئے 5 سال مکمل کرنا ضروری نہیں۔ صرف ایک سال مستقل ملازمت کے بعد بھی گریچویٹی دی جائے گی، جو پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کیلئے بڑا فائدہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خواتین کیلئے نائٹ شفٹ کی آزادی

خواتین اب اپنی رضامندی اور مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ نائٹ ڈیوٹی کر سکیں گی۔ انہیں برابر تنخواہ اور محفوظ ورک پلیس کی قانونی ضمانت بھی دی گئی ہے۔ نئے قانون میں ٹرانس جینڈر ورکرز کو بھی برابری کے حقوق شامل ہیں۔

گِگ اور پلیٹ فارم ورکرز کیلئے قانونی تحفظ

اوُلا–اوبر ڈرائیور، زومیٹو–سویگی ڈلیوری بوائز پہلی بار سوشل سکیورٹی سہولتیں حاصل کریں گے۔ ایگریگیٹرس اپنی آمدنی کا 1 تا 2 فیصد اس فنڈ میں جمع کریں گے، جس سے ورکر کو ریاست بدلنے پر بھی فائدہ ملتا رہے گا۔

اوور ٹائم کا ڈبل ریٹ

اب اضافی کام کی ادائیگی دوگنے ریٹ پر ہوگی اور دیرینہ بے ضابطگیاں ختم ہوں گی۔

کنٹریکٹ ورکرز کیلئے برابر تحفظ

کنٹریکٹ ورکرز کو بھی مستقل ملازمین جیسے حقوق، تنخواہ اور سوشل سکیورٹی ملے گی۔

کمپنیوں کیلئے آسان کمپلائنس

سنگل لائسنس اور سنگل ریٹرن سسٹم سے صنعتوں پر بوجھ کم ہوگا اور ریڈ ٹیپ ازم میں کمی آئے گی۔

مزدور تنازعات کا نیا حل نظام

انسپکٹر کی جگہ انسپیکٹر کم فیسلٹیٹر ماڈل نافذ ہوگا اور ٹربیونل کے ذریعے سیدھے فیصلے ملیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نئے لیبر کوڈ وکست بھارت 2047 کے خواب کو حقیقت بنانے کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

1 hour ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

3 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

3 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

4 hours ago