غربت کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے آج سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مفت کی وجہ سے لوگ کام سے گریز کر رہے ہیں۔ لوگوں کو بغیر کام کیے پیسے مل رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں قومی دھارے میں لانا اولین ترجیح ہے۔عدالت نے کہا کہ انتخابات سے قبل فری بیز کے اعلانات سے لوگ کام کرنے سے بچ رہے ہیں کیونکہ انہیں مفت میں راشن اور پیسے ملتے ہیں۔
جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس آر۔ جارج مسیح کی بنچ نے کہا کہ بدقسمتی سے ان فری بیز کی وجہ سے لوگ کام کرنے سے کترارہے ہیں۔ انہیں مفت میں راشن مل رہا ہے۔ بغیر کسی کام کے پیسے مل رہے ہیں۔ ہم عوام کے بارے میں آپ کے تحفظات کو سمجھتے ہیں لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ لوگوں کو سماج کے مین اسٹریم میں لایا جائے اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع دیا جائے۔دریں اثنا، اٹارنی جنرل آر. وینکٹرامنی نے بنچ کو بتایا کہ مرکزی حکومت غربت کے خاتمے کے مشن کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہے۔
بنچ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ مرکز سے اس بات کی تصدیق کریں کہ شہریوں کی غربت کے خاتمے کے مشن کو موثر ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔ اس کیس کی سماعت اب چھ ہفتے بعد ہوگی۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…