تصویر کریڈٹ: پی ٹی آئی
نئی دہلی: ’آئیڈیاز فار انڈیا سمٹ 2025‘ میں ہندوستان کے سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوائی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ہندوستان اگر 2047 میں دنیا کی صفِ اوّل کی جمہوریتوں میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے اپنے نظامِ انصاف میں گہرے، بنیادی اور ہمہ گیر اصلاحات کرنے ہوں گی۔ تقریب کا انعقاد نئی دہلی کے تاج پیلس میں ہوا، جس میں ملک کے متعدد سرکردہ ماہرین، پالیسی سازوں، صنعت کاروں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ہندوستان جب آزادی کے 100 سال مکمل ہونے کے قریب پہنچ رہا ہے، تو ضروری ہے کہ عدالتی ڈھانچے کو جدید تقاضوں، ٹیکنالوجی اور عوامی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ انصاف تیز، شفاف اور سب کے لیے قابلِ رسائی ہو سکے۔
جسٹس گوئی نے تقریب کے انعقاد پر ٹائمز آف انڈیا گروپ کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے ایک ایسا پلیٹ فارم قرار دیا جہاں ملک کے مستقبل کو تشکیل دینے والے دانشور، ماہرین اور پالیسی ساز مل کر نئے ہندوستان کا خاکہ تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 78 سال بعد ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ عدلیہ نے طویل سفر میں کیا کھویا، کیا پایا اور بہتر مستقبل کے لیے کیا کچھ بدلا جانا باقی ہے۔ انہوں نے 1950 میں محض آٹھ ججوں والی سپریم کورٹ سے لے کر آج کے 34 ججوں پر مشتمل ادارے تک کے سفر کا حوالہ دیا۔ ملک میں 25 ہائی کورٹ اور تقریباً 700 ڈسٹرکٹ کورٹ کے قیام کو انہوں نے عدالتی ڈھانچے کی مضبوطی کا اہم حصہ بتایا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ خصوصی قوانین، انٹیلیکچوئل پراپرٹی، کمپیٹیشن لاء اور ماحولیاتی قانون جیسے نئے شعبوں نے قانونی دائرۂ کار کو کافی وسعت دی ہے۔ جسٹس گوائی نے اعتراف کیا کہ ای-فائلنگ، ورچوئل ہیرنگ اور اے آئی پر مبنی ٹولز نے عدالتی کارروائیوں میں تبدیلی لانے کی شروعات ضرور کر دی ہے، مگر ان ٹیکنالوجیز کا استعمال احتیاط، شفافیت اور انسانی نگرانی کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ ٹیکنالوجی انصاف کے معیار کو مضبوط کرے، کمزور نہیں۔
نوآبادیاتی نظام اور سماجی ناہمواریوں پر تنقید
انہوں نے عدالتی نظام میں موجود کئی نوآبادیاتی دور کی رسومات اور ذات پات سے جڑے الفاظ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں موجود غیر ضروری درجہ بندی اور اندرونی ماتحتی کے نظام نے انصاف کے تصور کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے پولیس ریفارمز پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا کردار تحقیقاتی مہارت، جوابدہی اور عوامی اعتماد پر مبنی ہونا چاہیے۔
انصاف گھر گھر تک پہنچے
انہوں نے کہا کہ “انصاف ہر شہری تک پہنچنا چاہیے”۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے موبائل کورٹ، سرکٹ بینچوں، دور دراز علاقوں میں ورچوئل انفراسٹرکچر کے بہتر نظام اور عدالتوں کی تعداد میں اضافہ جیسے اقدامات تجویز کیے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں، عدالتوں اور معاون اداروں میں اضافہ انصاف کے بوجھ کو کم کرے گا، جبکہ مضبوط پولیس، فارنسک لیبز، استغاثہ اور لیگل ایڈ سسٹم عدلیہ کو زیادہ موثر بنائیں گے۔
کثیر شعبہ جاتی عدلیہ کا تصور
انہوں نے عدالتی نظام میں قانونی ماہرین، ڈیٹا تجزیہ کاروں، رویہ جاتی سائنسدانوں اور سماجی کارکنوں کو شامل کر کے عدلیہ کو زیادہ جدید اور شہریوں کے قریب لانے کی تجویز رکھی۔ جسٹس گوئی نے ’بلڈوزر ججمنٹ‘ اور ایس سی برادری میں سب کلاسیفکیشن سے متعلق اہم فیصلوں کا ذکر کیا، جنہوں نے مساوات اور آئینی حقوق کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آخر میں انہوں نے 2047 کے لیے ایک ایسے عدالتی نظام کا تصور پیش کیا جو تکنیکی طور پر جدید، عوام دوست، مؤثر، شفاف اور انسانیت پر مبنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام نہ صرف جمہوریت کو مستحکم کرے گا بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی مضبوط کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…