سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے پر پلٹ وار کیا ہے۔
نئی دہلی: بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے اپنے متنازعہ بیانات سے متعلق ان دنوں سرخیوں میں ہیں۔ ہندوستان کے چیف جسٹس کے خلاف اپنے تبصرہ سے ہنگامہ کھڑا کرنے کے بعد انہوں نے اتوارکوسابق چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) ایس وائی قریشی پرجم کرتنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس وائی قریشی الیکشن کمشنرنہیں، مسلم کمشنرتھے۔ نشی کانت کے دوبے کے اس بیان پراب ایس وائی قریشی نے پلٹ وارکیا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ سور(خنزیر) سے کبھی کشتی نہیں لڑنی چاہئے۔
سابق چیف الیکشن کمشنرایس وائی قریشی نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹ شیئرکیا ہے، جس میں انہوں نے مشہور رائٹرجارج برنارڈ شا کے ایک کوٹیشن کو کوڈ کیا۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ’’میں نے بہت پہلے ہی سیکھ لیا تھا کہ سور(خنزیر) سے کبھی کشتی نہیں لڑنی چاہئے۔ تم گندے ہوجاتے ہواوراس کے علاوہ خنزیرکویہ پسند ہے کہ عظیم رائٹرجارج برنارڈ شا کا ایک بہت ہی دانشمندانہ اقتباسات۔‘‘
نشی کانت دوبے پرایس وائی قریشی کا حملہ
اس سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان کے ایسے نظریے میں یقین رکھتے ہیں، جہاں شخص کی پہچان اس کے تعاون سے ہوتی ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے پرحملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کے لئے مذہبی پہچان ان کی نفرت والی سیاست کوآگے بڑھانے کی اہم بنیاد ہے۔ ایس وائی قریشی نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ اپنے آئینی اداروں اوراصولوں کے لئے کھڑا رہا ہے، کھڑا ہے اورکھڑا رہے گا اورلڑتا رہے گا۔
آئینی عہدے پر اپنی پوری صلاحیت سے کام کیا
ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا،’’میں نے الیکشن کمشنرکے آئینی عہدے پراپنی پوری صلاحیت سے کام کیا ہے اورانڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) میں میرا لمبا اوراطمینان بخش کیریئررہا۔ میں ہندوستان کے ایسے نظریے میں یقین رکھتا ہوں، جہاں شخص کواس کی صلاحیت اور تعاون سے پہچانا جاتا ہے، نہ کہ اس کی مذہبی پہچان سے۔‘‘
وقف قانون سے متعلق حکومت کی تنقید
دراصل، ایس وائی قریشی نے کچھ دن پہلے ہی وقف (ترمیمی) قانون کی تنقید کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لئے حکومت کا خطرناک اوربرا منصوبہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹ شیئرکرتے ہوئے لکھا تھا، ’’وقف ایکٹ بلاشبہ مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کرنے کا حکومت کا ایک خطرناک اور برا منصوبہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سپریم کورٹ اس پر سوال اٹھائے گا۔ بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ مشینری کے ذریعے پھیلائی گئی غلط معلومات نے اپنا کام بخوبی انجام دیا ہے۔‘‘
نشی کانت دوبے کا متنازعہ بیان
ایس وائی قریشی کے اس بیان پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے نشی کانت دوبے نے کہا تھا، ’’آپ الیکشن کمشنرنہیں تھے، آپ مسلم کمشنرتھے۔ جھارکھنڈ کے سنتھال پرگنہ میں آپ کے دفترمیں سب سے زیادہ بنگلہ دیشی دراندازوں کو ووٹربنایا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’پیغمبر محمد کا اسلام 712 عیسوی میں آیا تھا۔ اس سے پہلے یہ زمین (وقف) ہندوؤں یا اس مذہب سے جڑے آدیواسیوں، جینیوں یا بودھوں کی تھیں۔‘‘
۔ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ…
بدھ کو کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی…
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو (وی اے سی بی) دو…
راہل گاندھی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لے کر بھی جارحانہ انداز میں نظر…
صدر زیلنسکی نے ایمانوئل میکرون کے ساتھ بات چیت کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے…
انوشکا یادو اپنی بیٹی اُجّینی کے ساتھ ڈانڈیا کلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔ انہوں…