قومی

Ex-bureaucrats urge Centre: سابق بیوروکریٹس نے کی حکومت سے آر ٹی آئی ایکٹ میں ترمیم نہ کرنے کی درخواست

95 ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور سفارت کاروں کے ایک گروپ نے بدھ کے روز مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ مجوزہ ’’ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ‘‘ کی اس شق کو واپس لے، جو سرکاری اہلکاروں کے ذاتی معلومات کے تک رسائی کو روکنے کے لیے آر ٹی آئی یعنی معلومات کے حق کے قانون میں ترمیم کرتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر برائے انفارمیشن ٹکنالوجی اشونی وشنو کو لکھے ایک خط میں ’’کانسٹی ٹیوشنل کنڈٹ گروپ‘‘ نے کہا یہ ترمیم حق اطلاعات کے قانون کو ’’بڑی حد تک غیرموثر‘‘ بنا دے گی۔ واضح رہے کہ مرکز ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے سیکشن 44(3) کے ذریعے آر ٹی آئی کے سیکشن 8(1)(j) میں ترمیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ترمیم سرکاری اہلکاروں سے متعلق ’’ذاتی معلومات‘‘ تک عوام کی رسائی پر مکمل پابندی لگا دے۔ حالاں کہ اب تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ’’ذاتی معلومات‘‘ میں کون کون سی معلومات شامل ہیں۔

اس مجوزہ قانون کے ناقدین نے اس تبدیلی کو شفافیت اور جوابدہی کے ان اصولوں کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے جنھیں برقرار رکھنے کے لیے آر ٹی آئی ایکٹ بنایا گیا تھا۔ بدھ کے روز بھیجے گئے اپنے خط میں اس گروپ نے کہا کہ معلومات کا حق آئین کی دفعہ 19(1) سے حاصل کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید نشان دہی کی کہ سیکشن 8(1)(j) میں مجوزہ ترامیم کا اثر آر ٹی آئی ایکٹ پر پڑے گا اور اس کی ایک اہم شق کو ختم کر دے گا۔

گروپ نے مزید کہا کہ ترمیم نے معلومات کے حق کے قانون کے سیکشن 8(1) کو بھی ختم کر دیا ہے جو یہ کہتا ہے کہ جن معلومات تک رسائی سے پارلیمنٹ یا ریاستی مقننہ کو نہیں روکا جا سکتا، ان تک عوام کی رسائی کو بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ نے نوٹ کیا کہ ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ ’’تاہم معلومات کے حق کا قانون (آر ٹی آئی) پہلے سے ہی موجودہ شکل میں ذاتی ڈیٹا کو محفوظ رکھتا ہے۔ پہلے ہی معلومات کی ایسی دس قسمیں ہیں جن تک رسائی دینے سے شہری کو انکار کیا جا سکتا ہے۔ مزید پابندیاں مکمل طور پر غیر ضروری ہیں۔‘‘

سابق افسروں نے یہ مطالبہ کیا ہے

خط میں ان سابق نوکرشاہوں اور سفارت کاروں نے مطالبہ کیاہے کہ حکومت ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے سیکشن 44(3) کو واپس لے اور اس پروویژن کے نفاذ سے متعلق گزٹ نوٹیفکیشن کو روک دے۔ واضح رہے کہ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کو اگست 2023 میں صدارتی منظوری مل گئی ہے اور اس کے نفاذ کے لیے قواعد تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس قانون کے ناقدین نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ڈیٹا پروٹیکشن کا مجوزہ قانون انفرادی رازداری کو مضبوط نہیں کرتا اور نہ ہی یہ ان غیر ریاستی اداروں کو جواب دہ بناتا ہے، جو لوگوں کے ڈیٹا کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Bank Holiday: آج ہفتہ کو بینک کھلے ہیں یا بند؟ دیوالی سمیت آنے والے دنوں میں بینکوں کی چھٹیوں کی فہرست

 آج بینکنگ کا کام معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ ایسے میں عام طور پر…

21 minutes ago

Rupee jumps 56 paise to 93.91: ڈالر کے مقابلے روپے میں زبردست تیزی، 56 پیسے مضبوط ہوکر 93.91 پر بند

ڈیلروں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی بینک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی…

1 hour ago

Delhi AQI Today: دہلی-این سی آر میں آلودگی کی مار، گریپ-3 نافذ، اے کیو آئی 400 کے پار، ان گاڑیوں پر پابندی

محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے مطابق، ہفتہ 7 نومبر کو دہلی-این سی آر…

3 hours ago