تحریر: گری راج اگروال
مادّہ جاتی سائنسداں تھامس لوگراسو اہم مادّوں کے اختراعی تحقیق کے مرکز(سی ایم آئی )کے ڈائریکٹر ہیں، جو ایمس نیشنل لیباریٹری کی سربراہی میں امریکی محکمہ توانائی کا اختراعی مرکز ہے۔ اس نے ٹرفینول ڈی (اعلیٰ درستگی والی مشینی کارروائیوں میں استعمال ہونے والا ایک اہم مرکب)کے لیے مٹی سے پاک ایک نادر متبادل مل کر ایجاد کیا۔ لوگراسو نے فروری کے آخر میں اور مارچ 2025 کے اوائل میں محفوظ اور لچکدار عالمی سپلائی چین(رسد و ترسیل کا نظام) ، ٹیکنالوجی کے تجارتی مقاصد کی خاطر استعمال کے لیے ’ایمس لیب‘ کی شراکت داری پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے’ یو ایس اسپیکر پروگرام ‘کے حصے کے طور پر پنے، ممبئی، چنئی اور بینگالوروکا دورہ کیا۔
لوگراسو کے دورے اور بات چیت نے بشمول کامپیکٹ ( کیٹالائزنگ اپورچونٹیز فار ملیٹری پارٹنرشپ، ایکسلریٹڈ کامرس اینڈ ٹیکنالوجی) اور ٹرسٹ ( ٹرانسفارمنگ دی رلیشن شپ یوٹیلائزنگ اسٹریٹجک ٹیکنالوجی) امریکہ۔ ہندوستان کے کلیدی اقدامات کو آگے بڑھایا، جبکہ اہم معدنیات، اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی اور مضبوط و پائیدار رسد و ترسیل کے نظام کے بارے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط کیا ۔
لوگراسو نے اہم مادّوں کے لیے پائیدار رسد و ترسیل کے نظام کی عالمی ضرورت کی نشاندہی کی اور ان وسائل کو محفوظ بنانے میں امریکہ اور ہندوستان کے تعاون کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ وہ کہتے ہیں ’’ اہم مادّوں تک رسائی تکنیکی ترقی اور اقتصادی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ہمارا تعاون رسد و ترسیل کے نظام کو مضبوط کرے گا، اختراع کو فروغ دے گا اور ان صنعتوں کی حمایت کرے گا جو ہ دونوں ملکوں میں ترقی اور حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مہمیز کرتی ہیں۔‘‘
لوگراسو کے دورےسے مستقبل کے تعاون کے خاکے کی نشاندہی ہوئی جس میں طلبہ کے دو طرفہ تبادلہ پروگرام کا آغاز اور آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی ، ایمس نیشنل لیب کے اہم مادّوں کے اختراعی تحقیق کے مرکزاور ہندوستانی اداروں کے درمیان لیب سے لیب معاہدوں کے منصوبے شامل ہیں۔ اس دورے میں ہندوستان کے بڑے صنعتی اداروں کے سربراہان سے اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی شامل تھے جس میں ایسی شراکت داریاں زیر غور آئیں جو ٹیکنالوجی کی ترقی اور لائسنس دینے کے عمل کو فروغ دیں گی تاکہ اہم مادّوں کی رسدو ترسیل کا نظام بہتر ہو اور خوشحالی اور سلامتی پر مبنی اہداف حاصل کیے جاسکیں۔
پیش ہیں امریکی مقرر سے اسپَین میگزین کے انٹرویو کے اقتباسات:
آپ کے خیال میں گذشتہ دس برسوں میں اہم مادّہ جاتی تحقیق میں کیا پیش رفت ہوئی ہے، اور اس شعبے کو کن رکاوٹوں کا سامنا ہے؟
گذشتہ عشرے میں اہمیت کی حامل مادّی سائنس میں تحقیق نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مٹیریلس جینوم انیشی ایٹو (ایم جی آئی ) نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور کھلے ماخذ کے طریقوں سے فائدہ اٹھا کر نئے مواد کی دریافت میں تیزی لائی ہے۔ اس سے اعلیٰ درجے کی مرکب دھاتوں اور بایو مٹیریلس میں کامیابی ملی ہے، جو ایرو اسپیس اور حفظان صحت جیسی صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ بہتر لیتھیم آئن بیٹریوں جیسے توانائی کے ذخیرہ میں اختراعات نے توانائی کے نظام کو زیادہ موثر بنا دیا ہے۔ نینو ٹیکنالوجی نے اضافہ شدہ طاقت جیسی نئی خصوصیات کے ساتھ مواد کی ترقی کو فعال بنایا ہے۔
اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت ایک اضافی کردار بھی ادا کررہی ہےجو مادّی دریافت تیز کرنے، پیداوار کو بہتر بنانے ، طرز عمل کی ماڈلنگ کرنے اور اعداد وشمار کے بڑے حجم کا تجزیہ کرکے پیشن گوئی کی نگرانی کو فعال بنانے پر مبنی ہے۔
ان حصولیابیوں کے باوجود رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ جغرافیائی ۔سیاسی کشیدگی اور قدرتی آفات اہم مادّوں کی رسد و ترسیل کے نظام میں خلل ڈال سکتی ہیں۔حالاں کہ پائیدار رسد و ترسیل کے نظام کا یقینی بنایا جانا ضروری بھی ہے۔
امریکہ اورہندوستان اہم مادّوں کی تحقیق اور ترقی کے معاملے میں کس طرح تعاون کر رہے ہیں؟
امریکہ اورہندوستان نے اہم مادّوں کی تحقیق، خاص طور پر سیمی کنڈکٹرس جیسے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ٹرسٹ انیشی ایٹو لیتھیم جیسی اہم معدنیات کی بازیافت اور عمل کاری میں تعاون کو بڑھاتا ہے۔ ایڈوانسڈ مٹیریلس آر اینڈ ڈی فورم امریکی اور ہندوستانی یونیورسٹیوں اور محققین کے درمیان تعاون کی توسیع کرتا ہے۔
یہ کوششیں مہارت اور وسائل کو ملا کر اختراع کو فروغ دینے کے ساتھ رسد و ترسیل کے نظام کو متنوع بنانے اور واحد ذرائع پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد کرتی ہیں۔ جب کہ تحقیق اور ترقیاتی شراکت داری کی مضبوطی اعلیٰ معیار کی ملازمتیں پیدا کرنے اور تکنیکی ترقی کو فروغ دے کر اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دیتی ہے۔
اہم مادّوں کے اختراعی تحقیق کے مرکز(سی ایم آئی ) کا کردار کیا ہے اور اس کی بڑی حصولیابیاں کیا ہیں؟
سی ایم آئی اہم مادّوں سے متعلق دشواریوں سے نمٹتا ہے جو قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے ضروری ہے۔ یہ نایاب زمینی دھاتوں اور دیگر اہم مادّوں کے لیے مزاحمتی اور محفوظ رسد و ترسیل کے نظام کے قیام کی خاطر اختراعی حل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ سی ایم آئی تجربہ گاہوں ، یونیورسٹیوں اور صنعت کے ساتھ تعاون کے ذریعہ مادّوں کی لائف سائیکل (حیاتیاتی زندگی کے مراحل)کے چیلنجوں سے نمٹتا ہے۔ یہ قومی تجربہ گاہوں ، یونیورسٹیوں اور صنعتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔
سی ایم آئی نے ایسی ٹیکنالوجیاں تیار کی ہیں جو کم توانائی استعمال کرتی ہیں، جن میں نایاب زمینی دھاتوں کو حاصل کرنے کے لیے جھلی کے ذریعے محلول کشید کا طریقہ شامل ہے۔ اس نے 50 امریکی پیٹنٹ، 202 ایجادات کے انکشافات اور لائسنس یافتہ 50 ٹیکنالوجیاں حاصل کی ہیں۔سی ایم آئی نے 12 آر اینڈ ڈی 100 ایوارڈجیتے ہیں اور پیر ریویڈ پیپرس(محققین کے جائزہ شدہ تحقیقی مقالے)تیار کیے ہیں۔ سی ایم آئی میں 400 سے زیادہ طلبہ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ اسکالرس نے حصہ لیا ہے جن میں سے کئی حکومت، صنعت اورتعلیمی اداروں میں عملی زندگی گزارنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔
اہم مادّوں کے لیے رسد و ترسیل کے نظام میں تنوع اب ترجیح کیوں ہے؟
اہم مادّوں کے لیے کسی ایک ملک یا خطے پر انحصار کرنا رسد و ترسیل کے نظام کو جغرافیائی سیاسی تنازعات، تجارتی پابندیوں اور قدرتی آفات کے لیے کمزور بنا دیتا ہے۔ کووِڈ 19 وبائی امراض اور قدرتی آفات جیسے واقعات اس نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں جس سے تاخیر اور قلت ہو سکتی ہے۔ رسد و ترسیل کے نظام کو متنوع بنانے سے یہ یقینی بنتاہے کہ متبادل ذرائع دستیاب ہوں، جو ان خطرات کو کم کرنے میں مدد کریں۔ نظام کا تنوع صنعتوں اور معیشتوں پر رکاوٹوں کے اثرات کو کم کرکے اقتصادی استحکام کو فروغ دینے کا سبب بھی بنتا ہے۔
آپ نے حال ہی میں ہندوستان کا دورہ کیا اور مختلف سامعین سے بات چیت کی۔ آپ کے سفر کے اہم نکات کیا تھے؟
پونے، ممبئی، چنئی اور بینگالورو کے میرے حالیہ دوروں کے دوران مختلف سامعین کے ساتھ بات چیت نے امریکی اور ہندوستانی اداروں کے درمیان تعاون اور علم کے اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دوروں نے خاص طور پر تعلیمی پروگراموں کے ذریعے تعاون، پائیداری اور افرادی قوت کی ترقی کی اہمیت کی نشاندہی کی۔ بات چیت میں عالمی مادّی چیلنجوں سے نمٹنے اور اہم ٹیکنالوجیوں میں جدت طرازی کےلیے مشترکہ کوششوں کے امکانات پر بھی زور دیا گیا ۔
کیا ایمس لیب کسی ہندوستانی ادارے کے ساتھ تعاون کر رہا ہے؟
ایمس لیب صنعت، تعلیمی اور دیگر اداروں کے ساتھ شراکت داری کرکے ابتدائی مرحلے کی تحقیق کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے دستیاب کرواتا ہے۔ کوآپریٹو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایگریمنٹس (سی آر اے ڈی اے ) اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ پروجیکٹس (ایس پی پی ) جیسے پروگرام ان کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔حالانکہ ہندوستانی اداروں کے ساتھ مخصوص شراکت داریوں کو اجاگر نہیں کیا گیا، تاہم، ایمس لیب کے دروازے بین الاقوامی تعاون کےلیے کھلے ہیں اور یہاں نجی تبادلہ پروگرام کے ذریعے آنے والے پیشہ ور افراد کی میزبانی کی جاتی ہے۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو
کوریا کی سیونگ سویون کو 5-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں داخل ہونے…
ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر…
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…