نئی دہلی: دہلی میں ترنگا مارچ کا اعلان کرنے والے سی جے پی کے لیڈر ابھجیت دیپکے کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس کے بعد مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ممتا بنرجی نے ابھجیت دیپکے اور ان کے ساتھیوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا، ’’گھبراؤ مت، ابھی دیدی آپ کے ساتھ ہے‘‘
’یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے کم نہیں‘
ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’دہلی پولیس کیا کر رہی ہے؟ ابھجیت دیپکے کو محض اس لیے حراست میں لے لیا گیا، کیونکہ وہ ہندوستانی پرچم ترنگا تھامے ہوئے تھے۔ ذرا سوچیے! آزاد ہندوستان میں ہمارے نوجوانوں کو اپنے جمہوری حقوق کا پرامن طریقے سے استعمال کرنے پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے کم نہیں ہے۔ ’’جو حکومت اختلاف رائے سے ڈرتی ہے، وہ اب پوری نسل کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسی فاشسٹ حکومت کا رویہ ہے، جو اپنی مرضی کے مطابق نہ چلنے والی کسی بھی آواز کو برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘
WHAT IS DELHI POLICE UP TO?
Abhijeet Dipke has been detained for holding the Indian National Flag. Let that sink in. In Independent India, our youth are being detained for peacefully asserting their democratic rights.
This is nothing short of an undeclared Emergency. A government that fears dissent is now trying to intimidate an entire generation into silence. This is the conduct of a fascist regime that cannot tolerate a voice it cannot control.
Abhijeet, Ashutosh, Saurav — you represent the courage, conscience and aspirations of India’s youth. You cannot silence an entire generation by suppressing its voice.
Your Didi stands firmly with you. No intimidation, no detention and no abuse of power can crush the spirit of democracy.
WAKE UP, INDIA! The fight for democracy, freedom and the right to dissent will continue.
— Mamata Banerjee (@MamataOfficial) October 16, 2026
’آپ کی دیدی پوری مضبوطی سے آپ کے ساتھ کھڑی ہیں‘
ممتا بنرجی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا، ’’ابھجیت، آشوتوش، سورو، آپ ہندوستان کے نوجوانوں کی ہمت، سمجھ بوجھ اور امیدوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کسی کی آواز دباکر آپ پوری نسل کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ آپ کی دیدی پوری مضبوطی سے آپ کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ’’کوئی بھی دھمکی، کوئی بھی حراست یا اقتدار کا کوئی بھی غلط استعمال جمہوریت کی روح کو کچل نہیں سکتا۔ جاگو، ہندوستان! جمہوریت، آزادی اور اختلاف رائے کے حق کی یہ لڑائی جاری رہے گی۔‘‘
وسطی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات
واضح رہے کہ دہلی کا سینٹرل پارک جمعہ کو بند رہا اور ہفتہ کو بھی بند رہے گا۔ سی جے پی نے جمعہ کی شام یہاں ترنگا مارچ نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے پیش نظر کناٹ پلیس، سینٹرل پارک اور پورے وسطی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پورے علاقے میں دہلی پولیس کے 6 ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات ہیں۔ کناٹ پلیس، راجیو چوک، سینٹرل پارک، جنتر منتر اور پالیکا بازار سمیت دہلی کے اہم مقامات پر پولیس اور نیم فوجی دستے پوری طرح مستعد ہیں۔ وہیں سینٹرل پارک کے اندر سات سطحی سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہیلتھ کیئر اور ایف ایم سی جی کے شعبے کی کمپنی کُوپڈ لمیٹڈ (Cupid Ltd)…
آئی ٹی سٹی، ویلنیس سٹی، نیمش نگر اور ورون وہار سمیت 4 بڑے ترقیاتی منصوبوں…
پنجاب میں منشیات کے کاروبار، گینگسٹر ازم اور بڑھتے جرائم کو لے کر سیاسی گھمسان…
بھارتی کپتان اسمرتی مندھانا ٹی 20 انٹرنیشنل میں 5,000 رنز مکمل کرنے سے صرف 133…
پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے تمام 8 نشستوں پر امیدوار اتارے ہیں، پٹنہ…
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…