قومی

Finance Minister Nirmala Sitharaman: ایل ٹی سی جی ٹیکس پر نرملا سیتارمن نے کیا کہا؟ کیا حکومت چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایل ٹی سی جی ٹیکس کو کرے گی ختم ؟

نئی دہلی : وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اشارہ دیا ہے کہ حکومت بجٹ سے متعلق مشاورت کے دوران طویل مدتی کیپٹل گین ٹیکس (ایل ٹی سی جی) ختم کرنے کے بارے میں سرمایہ کاروں کی رائے سنے گی۔ اس بیان کے بعد حصص بازار پر عائد ٹیکس کے نظام پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار بھارتی بازاروں سے مسلسل سرمایہ نکال رہے ہیں۔منگل کو نئی دہلی میں بلومبرگ نیو اکانومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے سیتارمن نے کہا کہ بھارتی اور غیر ملکی، دونوں طرح کے سرمایہ کاروں نے طویل مدتی کیپٹل گین ٹیکس، سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (ایس ٹی ٹی) اور مختلف اثاثوں پر یکساں ٹیکس عائد کرنے جیسے معاملات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں حصص پر ٹیکس کے نظام میں تبدیلی کے مطالبات کیے جارہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی تحقیقی شاخ ایس بی آئی ریسرچ نے بھی تجویز دی ہے کہ حصص پر طویل مدتی کیپٹل گین ٹیکس ختم کیا جائے اور سرمایہ کاری کی مدت بڑھا کر 2 سے 3 سال کردی جائے، تاکہ طویل عرصے تک سرمایہ بازار میں برقرار رہے۔تاہم، وزیر خزانہ کے بیان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومت نے یہ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 20 جولائی کو پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے کہا تھا کہ گھریلو یا چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایل ٹی سی جی ٹیکس ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

ایل ٹی سی جی ٹیکس پر نرملا سیتارمن نے کیا کہا؟

نرملا سیتارمن نے تسلیم کیا کہ حصص میں سرمایہ کاری پر ٹیکس کا معاملہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ سے متعلق مشاورتی عمل کے دوران مختلف نقطہ نظر سننے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا، ’’ایل ٹی سی جی کے بارے میں بہت سے لوگ تبصرے کررہے ہیں، جن میں بھارتی اور غیر ملکی سرمایہ کار دونوں شامل ہیں۔ بازار میں ایس ٹی ٹی اور تمام اثاثوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرنے کے سوال پر بھی کافی بحث ہورہی ہے۔ اس طرح کی بحث ہونا اچھی بات ہے۔‘‘ان کے بیان سے دو اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا حکومت کو حصص سے حاصل ہونے والے طویل مدتی منافع پر ٹیکس کے نظام پر دوبارہ غور کرنا چاہیے؟ دوسرا یہ کہ کیا سرمایہ کاری کی مختلف اقسام پر عائد ٹیکس کو زیادہ یکساں بنایا جانا چاہیے؟ایل ٹی سی جی ٹیکس ان اثاثوں سے حاصل ہونے والے اہل منافع پر لاگو ہوتا ہے جنہیں مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک اپنے پاس رکھا گیا ہو۔ اس کے برعکس، ایس ٹی ٹی مخصوص سیکیورٹیز کے لین دین پر عائد کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کسی بھی ٹیکس میں تبدیلی کا اثر سرمایہ کاروں اور مالیاتی بازار میں سرمایہ کاری کی لاگت پر پڑ سکتا ہے۔

اے آئی، سیمی کنڈکٹر اور نجی سرمایہ کاری پر بھی زور

وزیر خزانہ نے ابھرتے ہوئے شعبوں، خصوصاً قابل تجدید توانائی اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری میں نجی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے کہا، ’’بات صرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی نہیں ہے، بلکہ سیمی کنڈکٹر، چِپس، ان کے ڈیزائن اور پیکیجنگ کی بھی ہے۔ بھارت ایسے شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے جو اے آئی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘‘

کیا حکومت چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایل ٹی سی جی ٹیکس ختم کرے گی؟

حصص پر ٹیکس کے معاملے پر نئی بحث کے باوجود حکومت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ گھریلو اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایل ٹی سی جی ٹیکس ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔20 جولائی کو لوک سبھا میں دیے گئے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے کہا تھا کہ حکومت اس طرح کے کسی اقدام پر غور نہیں کررہی ہے۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا یہ ٹیکس ختم کرنے سے بازار میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ سکتا ہے، گھریلو سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ ہوسکتا ہے اور بھارتی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع مل سکتے ہیں۔

چودھری نے جواب دیا، ’’فی الحال ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس پالیسیوں، بشمول کیپٹل گین ٹیکس کی شرحوں، کا وقتاً فوقتاً سالانہ بجٹ اور قانون سازی کے عمل کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس دوران مجموعی معاشی حالات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔چودھری کے مطابق، گھریلو اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایل ٹی سی جی ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد ہے۔ حصص میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کے لیے بھی یہی شرح لاگو ہوتی ہے۔تاہم، حکومت نے سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کو ٹیکس سے الگ رعایت دی ہے۔ یہ رعایت ان کی حصص میں کی جانے والی سرمایہ کاری پر لاگو نہیں ہوتی۔اہم بات: وزیر خزانہ نے سرمایہ کاروں کی رائے سننے کی بات کہی ہے، لیکن ایل ٹی سی جی ٹیکس ختم کرنے کا کوئی فیصلہ یا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

INDIA Bloc: سڑک سے سپریم کورٹ تک لڑائی، نومبر میں اپوزیشن کی بڑی ریلی کی تیاری! دہلی سے بنگال تک تحریک پھیلانے کی حکمت عملی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو وسیع تحریک میں…

16 minutes ago

Eat Biryani Only from Hindu Shop: بریانی ہندوؤں کی دکانوں سے ہی کھائیں، درگا پوجا سے پہلے مغربی بنگال میں پوسٹر تنازع

’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے…

2 hours ago