Keralam Exit Poll: کیرلم میں یو ڈی ایف کی ممکنہ برتری، ایگزٹ پول میں 83 سے زائد سیٹیں جیتنے کی امید

ترواننت پورم: کیرلم اسمبلی انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ایگزٹ پولس میں یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کی واضح برتری کے اشارے مل رہے ہیں۔ ایک نجی سروے کے مطابق ریاست میں یو ڈی ایف کو زبردست کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اور وہ اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔ شائننگ انڈیا نامی سروے ایجنسی کے اندازوں کے مطابق 140 رکنی اسمبلی میں یو ڈی ایف کو تقریباً 83 نشستیں ملنے کی امید ہے۔ دوسری جانب لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کو 54 نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو محض 3 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 21 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جہاں نتائج کسی بھی طرف جا سکتے ہیں۔

سروے کے مطابق ووٹ فیصد کے لحاظ سے بھی یو ڈی ایف کو برتری حاصل ہے۔ اندازہ ہے کہ یو ڈی ایف کو 43.6 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں، جبکہ ایل ڈی ایف کو 38.2 فیصد اور این ڈی اے کو 13.5 فیصد ووٹ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ دیگر جماعتوں کے حصے میں تقریباً 1.3 فیصد ووٹ جا سکتے ہیں، جبکہ 3.4 فیصد ووٹرز کو خاموش یا غیر فیصلہ کن قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کیرلم کی تمام 140 اسمبلی نشستوں پر 9 اپریل کو ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔ اس دوران ووٹرز نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مجموعی ووٹنگ فیصد 78.27 ریکارڈ کیا گیا، جو 1977 کے بعد دوسرا سب سے زیادہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ مانا جا رہا ہے۔ 1977 میں ریاست میں 79.02 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی، جو اب تک کا سب سے زیادہ ریکارڈ ہے۔

کیرلم کی انتخابی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آزادی کے بعد 1957 میں یہاں پہلی مرتبہ اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے تھے، جن میں تقریباً 65 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے ہر انتخاب میں ووٹنگ کا تناسب مجموعی طور پر بڑھتا رہا ہے، جو ریاست میں جمہوری عمل کے تئیں عوامی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر 2021 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کو دیکھا جائے تو اس وقت ایل ڈی ایف نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 99 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ یو ڈی ایف صرف 41 نشستوں تک محدود رہی تھی۔ اسی طرح این ڈی اے کے لیے وہ انتخاب مایوس کن ثابت ہوا تھا اور اسے ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوئی تھی۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس بار انتخابی منظرنامہ بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جہاں یو ڈی ایف کو واضح برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ تمام اعداد و شمار محض ایگزٹ پول اور اندازوں پر مبنی ہیں اور حتمی نتائج کا انحصار ووٹوں کی گنتی پر ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کیرلم اسمبلی انتخابات کے باضابطہ نتائج 4 مئی کو جاری کیے جائیں گے۔ اسی دن یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یو ڈی ایف واقعی اقتدار میں واپسی کرتی ہے یا ایل ڈی ایف ایک بار پھر اپنی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے۔ فی الحال ایگزٹ پولس نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے اور تمام نظریں حتمی نتائج پر مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

5 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

5 hours ago