قومی

EPFO adds 1.46 million members in March: مارچ کے مہینے میں ای پی ایف او کے ساتھ 1.46ملین نئے ممبران جڑے،خواتین اور نوجوانوں کی تعداد ہے زیادہ

مارچ 2025 میں ای پی ایف او نے 14.58 لاکھ نئے اراکین شامل کیے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اس اضافے میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت نمایاں رہی، جہاں 18 سے 25 سال کی عمر کے 8.46 لاکھ نئے اراکین شامل ہوئے، جو کہ کل نئے اراکین کا 58 فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ، 3.35 لاکھ خواتین نے نئی رجسٹریشن کروائی، جو کہ کل اضافے کا 23 فیصد ہے، اور یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے۔ ای پی ایف او کا کہنا ہے کہ یہ رجحان بھارت کے منظم شعبے میں روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع اور صنفی شمولیت کی بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔

ای پی ایف او کے اعداد و شمار کے مطابق، مارچ میں 13.23 لاکھ اراکین دوبارہ اس اسکیم میں شامل ہوئے، جو کہ فروری 2025 کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ، 7.89 لاکھ اراکین نے اپنی ملازمت تبدیل کی اور نئے آجر کے ساتھ ای پی ایف او میں دوبارہ رجسٹریشن کروائی، جو کہ لیبر مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس عرصے کے دوران، سب سے زیادہ نئے اراکین مہاراشٹر، کرناٹک، اور تمل ناڈو سے شامل ہوئے، جہاں بالترتیب 2.5 لاکھ، 1.8 لاکھ، اور 1.5 لاکھ اراکین کی رجسٹریشن ہوئی۔ ان ریاستوں میں مینوفیکچرنگ، آئی ٹی، اور سروسز سیکٹرز نے اہم کردار ادا کیا۔

نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کا منظم شعبہ نئی افرادی قوت کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ ای پی ایف او کے مطابق، نئے اراکین میں سے 70 فیصد سے زائد نے اپنی پہلی ملازمت کے ساتھ شمولیت اختیار کی، جو کہ روزگار کے نئے مواقع کی نشاندہی کرتا ہے۔ خواتین کی شمولیت میں اضافہ بھی حوصلہ افزا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف صنفی تنوع بڑھ رہا ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی خواتین کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ای پی ایف او کی اسکیم سے سماجی تحفظ کو فروغ ملتا ہے، جو ملازمین کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں مددگار ہے۔

ای پی ایف او نے بتایا کہ مارچ 2025 میں سب سے زیادہ اضافہ آئی ٹی، ٹیکسٹائل، اور ہاسپٹیلٹی سیکٹرز میں دیکھا گیا، جہاں بالترتیب 3.2 لاکھ، 2.8 لاکھ، اور 1.9 لاکھ نئے اراکین شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ، ای پی ایف او نے اپنی خدمات کو ڈیجیٹل بنانے پر بھی زور دیا، جس سے نئے اراکین کے لیے رجسٹریشن کا عمل آسان ہوا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو اس اسکیم کا حصہ بنایا جا سکے۔ یہ اعداد و شمار بھارت کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہیں، کیونکہ منظم شعبے میں اضافہ معاشی استحکام کو فروغ دیتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

2 hours ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

2 hours ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

3 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

4 hours ago