نئی دہلی: ادیب، شاعراورنقاد پروفیسرمظفرحنفی کا اردواداب میں ایک اہم اورمشہورنام ہے۔ وہ سینکڑوں کتابوں کے مصنف رہے ہیں۔ یکم اپریل 1936 کو پیدا ہوئے پروفیسرمظفرحنفی نے 10 اکتوبر2020 میں انتقال سے پہلے ادبی دنیا میں اپنا اہم مقام بنایا۔ شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کئی برس تک تدریسی خدمات انجام دینے والے پروفیسرمظفرحنفی نے اردوادب کے لئے بیش قیمتی سرمایہ چھوڑا ہے۔ فیروزمظفرکودہلی اردواکادمی سمیت کئی اہم ایوارڈ سے سرفرازکیا گیا ہے اوران کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ تاہم مظفرحنفی کے بیٹے انجینئرفیروزمظفرنے اردواداروں پرسوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے والد کوجومقام ومرتبہ ملنا چاہئے تھا، وہ انہیں نہیں ملا۔ خاص طورپراردوکے لئے کام کرنے والے اداروں نے انہیں فراموش کردیا۔
انجینئر فیروزمظفرکا کہنا ہے کہ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، دہلی اردو اکادمی، انجمن ترقی اردوہند کے علاوہ شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی میرے والد کومناسب طریقے سے یاد نہیں کیا۔ انہوں نے تمام اردواداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیرجانبدارانہ طریقے سے میرے والد مظفرحنفی اورجن ادبا کونظراندازکردیا ہے، ان پرتوجہ دیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہلی اردواکادمی نے ایک مونوگراف شائع کرایا ہے، لیکن اس پرمناسب طریقے سے کام نہیں کیا گیا۔ بہرحال اردو اکادمی، دہلی نے جوکیا، اس کے لئے ہم مشکورہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
ہندوستانی خاتون کرکٹ ٹیم کی نوجوان اسپنر ویشنوِی شرما نے آئی سی سی ویمنز ون…
ڈی آر ڈی او کے تیار کردہ پرلے میزائل کا اڈیشہ کے چندی پور میں…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے انڈیا اتحاد میں شمولیت کے معاملے پر سیاسی…
اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…
تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…
دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…