قومی

Elvish Yadav Supreme Court Relief: ایلویش یادو کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت،  اگلی سماعت تک کارروائی پر روک برقرار، عدالت نے ’زہریلے سانپ‘ کے دعوے پر حیرت کا کیا اظہار

مشہور یوٹیوبر اور بگ باس او ٹی ٹی کے فاتح ایلویش یادو کو سپریم کورٹ سے حاصل راحت فی الحال برقرار رہے گی۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت تک نچلی عدالت کی کارروائی پر روک کے حکم کو جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس پی۔ ایس۔ نرسمہ اور جسٹس این۔ کے۔ سنگھ کی بنچ اس معاملے کی سماعت مارچ میں کرے گی۔

سانپوں کے زہر اور ’زہریلے اجگر‘ پر سخت بحث

سماعت کے دوران ایلویش یادو کے وکیل نے دلیل دی کہ جن سانپوں کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ زہریلے نہیں ہیں۔ اس پر بینچ نے درخواست گزار کے وکیل سے سخت لہجے میں پوچھا: ’’کیا آپ نے سانپوں کے ساتھ براہِ راست کام کیا ہے؟ کیا آپ چڑیا گھر جا کر جانوروں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں؟ کیا یہ جرم نہیں ہوگا؟‘‘ عدالت نے واضح کیا کہ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت درج شکایت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں کر سکتا۔ کیس میں نیا موڑ اس وقت آیا جب اصل شکایت کنندہ گورو گپتا کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پارٹی میں موجود سانپ ایک اجگر تھا، جس میں زہریلی غدود تھیں۔ اس پر عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اجگر میں زہریلی غدود کیسے ہو سکتی ہیں؟ وہ تو اپنے شکار کو جکڑ کر مار دیتا ہے۔‘‘

الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج

ایلویش یادو نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، جس میں عدالت نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر اور چارج شیٹ پر روک لگانے سے انکار کیا تھا۔ مئی 2024 میں ہائی کورٹ کی یکل بنچ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ چارج شیٹ میں ایلویش کے خلاف کافی بیانات درج ہیں، جن کی جانچ ٹرائل کے دوران ہوگی۔

ایلویش یادو کے وکیل کی دلائل

وکیل نے عدالت میں درج ذیل دلائل پیش کیے: ایلویش کے پاس سے کوئی سانپ یا منشیات برآمد نہیں ہوئی۔دیگر ملزمان کے ساتھ ایلویش کا کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔شکایت کنندہ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مجاز نہیں ہے، اور جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے۔ان بنیادوں پر چارج شیٹ کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔

پورا معاملہ کیا ہے؟

ایلویش یادو پر نوئیڈا میں ریو پارٹی کا انعقاد کرنے، سانپ کے زہر کے غلط استعمال، اور غیر ملکیوں کو مدعو کر کے نشہ آور اشیاء استعمال کرانے کے الزامات ہیں۔ گوتم بدھ نگر کے سیکٹر 49 تھانے میں ان کے خلاف وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ، 1972 کی مختلف دفعات، آئی پی سی (IPC) اور این ڈی پی ایس (NDPS) ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔پولیس نے اس معاملے میں اپریل 2024 میں 1200 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائر کی تھی۔ فی الحال، سپریم کورٹ کی روک کے باعث نچلی عدالت میں اس پر کارروائی مارچ تک مؤخر رہے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Sports News: ویسٹ انڈیز نے تاریخی ہدف حاصل کرکے ریکارڈز کی جھڑی لگا دی، شائی ہوپ کے نام بھی بڑی کامیابی

دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…

9 hours ago

LG Swaraj Dweep visit: ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما کا دورہ جزائر انڈمان و نکوبار: ہاپ آن ہاپ آف بس سروس کا آغاز اور اہم اعلانات

جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…

10 hours ago

PMEGP Scheme: پی ایم ای جی پی اسکیم سے کامیاب کاروبار کھڑا کیا، شاکر خان بنے کئی لوگوں کے لیے روزگار فراہم کرنے والے

مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…

11 hours ago