راشٹریہ جنتا دل کے رہنما اور بہار کے سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ جمعہ کو پٹنہ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل ووٹر لسٹ پر خصوصی نظر ثانی کا اعلان ایک ‘سازش’ ہے، جس کا مقصد غریبوں، دلتوں اور اقلیتوں کے حق رائے دہی کو چھیننا ہے۔ تیجسوی نے یہ بھی کہا کہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور مرکز کی بی جے پی حکومت بھی اس سازش میں شامل ہے۔
بہار میں اکتوبر-نومبر 2025 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسی دوران الیکشن کمیشن نے 24 جون 2025 کو بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کا اعلان کیا۔ اس عمل میں بوتھ لیول آفیسرگھر گھر جا کر ووٹروں کی معلومات اور دستاویزات کی جانچ کریں گے۔ اس طرح کی آخری ترمیم 2003 میں ہوئی تھی، جو 2 سال تک جاری رہی۔ اس بار کمیشن نے صرف 25 دنوں میں 8 کروڑ ووٹروں کی فہرست تیار کرنے کا ہدف رکھا ہے، جسے تیجسوی نے ‘ناممکن’ اور ‘مشکوک’ قرار دیا ہے۔
غریبوں کو ووٹ سے محروم کرنے کی سازش
تیجسوی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں شائع شدہ 8 کروڑ بہاریوں کی ووٹر لسٹ کو منسوخ کر کے نئی فہرست بنانے کی بات کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حالیہ لوک سبھا انتخابات اس ووٹر لسٹ پر ہوئے تھے تو پھر اسمبلی انتخابات کے لیے نئی فہرست کی ضرورت کیوں پڑی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ قدم غریبوں، دلتوں اور اقلیتوں کو ووٹ دینے سے روکنے کی سازش ہے۔
25 دنوں میں 8 کروڑ ووٹروں کی فہرست تیار کرنا ناممکن
تیجسوی نے کہا کہ 22 سال پہلے 2003 میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی دو سال میں مکمل ہوئی تھی۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ صرف 25 دنوں میں 8 کروڑ لوگوں کی فہرست تیار کی جائے اور گھر گھر جا کر اس کی تصدیق کی جائے؟ انہوں نے اسے ‘جمہوریت اور آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ’ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بہار کا 73 فیصد علاقہ مانسون کے دوران سیلاب سے متاثر ہوتا ہے۔ ایسے میں لوگ اپنی جان و مال بچانے میں مصروف ہیں۔ پھر وہ کاغذات الیکشن کمیشن کو کہاں سے دیں گے۔ تیجسوی نے سوال کیا کہ اگر یہ ضروری تھا تو پھر لوک سبھا انتخابات کے ختم ہوتے ہی یہ کام شروع کیوں نہیں کیا گیا؟
تیجسوی نے کہا کہ نئے قوانین کے تحت ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے لیے پیدائش کا سرٹیفکیٹ اور والدین کی شہریت کا ثبوت دینا ہوگا۔ 40 سال سے کم عمر کے 59 فیصدلوگوں (تقریباً 4.76 کروڑ) اور 18-20 سال کے نوجوانوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 2001-2025 کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں میں سے صرف 2.8فیصد کے پاس پیدائشی سرٹیفکیٹ ہے اور صرف 10-13فیصد نے ہائی اسکول مکمل کیا ہے۔ غریبوں کے پاس ایسی دستاویزات کہاں ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آدھار کارڈ کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے، جس سے غریبوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔
پلائن کرنے والے مزدوروں کے لیے کوئی انتظام نہیں
تیجسوی نے کہا کہ بہار کے 3 کروڑ لوگ روزگار کے لیے دوسری ریاستوں میں رہتے ہیں۔ ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ مزدور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیسے کریں گے؟تیجسوی نے الزام لگایا کہ نتیش کمار دہلی جا کر اس سازش کا حصہ بنے۔ وہ نتیش کے حالیہ دہلی دورے کا حوالہ دے رہے تھے، جسے انہوں نے بہار میں این ڈی اے کی شکست کے امکان سے جوڑا تھا۔ انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر آئین کو تبدیل کرنے اور غریبوں کے حق رائے دہی کو چھیننے کا بھی الزام لگایا۔
بھارت ایکسپریس۔
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…
ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…
یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…