قومی

دہلی، مہاراشٹر سمیت 7 ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ، جاری کئے نئے احکامات، یہاں پڑھیں پوری تفصیل

نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ ڈرافٹ ووٹرلسٹ سے ہٹائے گئے ووٹروں کی شناخت کے لئے خصوصی مہم دوبارہ چلائی جائے۔ بی ایل اوان کے گھروں پرجا کرتصدیق کریں گے۔ مرکزی الیکشن کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ جن ریاستوں میں اس وقت ایس آئی آرجاری ہے، وہاں ڈرافٹ ووٹرلسٹ سے ہٹائے گئے ووٹروں کوتلاش کرنے کے لئے ایک بارپھرخصوصی مہم چلائی جائے۔ جن ریاستوں کے لئے یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں، ان میں دہلی، ہریانہ، مہاراشٹر، ناگالینڈ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اورجھارکھنڈ شامل ہیں۔

اس کے تحت جن ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹا دیئے گئے ہیں، بی ایل اوایک بارپھران کے گھروں پرجا کرجانچ کریں گے کہ آیا وہ واقعی اسی پتے پررہ رہے ہیں یا نہیں۔ کٹے ہوئے ناموں کی فہرست پولنگ بوتھ پرلگانے کی ہدایت الیکشن کمیشن نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ جن ووٹروں کے نام ووٹرلسٹ سے کاٹے گئے ہیں، ان کی فہرست متعلقہ پولنگ بوتھوں پرآویزاں کی جائے، تاکہ ووٹراپنا نام دیکھ کراسے دوبارہ شامل کروا سکیں۔ اس کے لئے کمیشن نے ایک فارم بھی جاری کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق، یہ سہولت ان ووٹروں کودی جائے گی، جنہیں اینیومریشن فارم توجاری کئے گئے تھے، لیکن جانچ کے دوران انہیں غیرحاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ یا ڈپلیکیٹ زمرے میں رکھ کرڈرافٹ ووٹرلسٹ سے خارج کردیا گیا تھا۔

سخت نگرانی کی ہدایت

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے حکام کوسخت نگرانی برقراررکھنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل ووٹرحتمی ووٹرلسٹ میں شامل ہونے کے موقع سے محروم نہ رہ جائے اور ساتھ ہی کسی بھی فرضی یا ڈپلیکیٹ نام کوفہرست میں شامل ہونے سے روکا جا سکے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، اب تک بہاراورمغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اورمرکزکے زیرانتظام علاقوں میں ایس آئی آرکا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ ووٹرلسٹ کی مسلسل اپ ڈیٹ کے عمل کے تحت چھوٹ جانے والے ووٹروں کے نام شامل کئے جا سکتے ہیں۔ ای سی آئی نے تمام چیف الیکٹورل افسران (چی ای او) کواس عمل میں ضروری سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

طریقہ کاراوراحکامات پرای سی آئی کی وضاحت

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے اس سے قبل اپنے حلف نامے میں داخلی کام کی تقسیم اورایک افسرکے طریقہ کارسے متعلق اٹھائے گئے سوالات پربھی وضاحت دی تھی۔ ای سی آئی نے کہا کہ کابینہ سکریٹری کولکھا گیا خط کمیشن یا اس کے آئی ٹی محکمہ سے متعلق کسی پالیسی معاملے کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ الیکشن کمیشن میں ڈیپوٹیشن پرتعینات ایک افسرکے کام کاج سے متعلق تھا۔ ای سی آئی کے مطابق، متعلقہ افسرکی جانب سے جاری کئے گئے کام کی دوبارہ تقسیم کے احکامات دونوں الیکشن کمشنروں کی ہدایت کے بعد نافذ نہیں کئے گئے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Plea on Delhi Pollution: دہلی میں فضائی آلودگی پر سپریم کورٹ کا طنزیہ تبصرہ، کہا-’’امید ہے آپ موسم کا لطف اٹھا رہے ہوں گے‘‘

عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…

2 hours ago

Amit Shah launches Mission Uttarakhand: امت شاہ نے ’مشن اتراکھنڈ‘ کا کیا آغاز، مسلسل تیسری بار بی جے پی حکومت بنانے کے لیے 65 سے زیادہ سیٹوں کا ہدف

اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…

2 hours ago

PM Modi meets Suryakumar Yadav: وزیراعظم مودی سے سابق بھارتی ٹی-20 کپتان سوریہ کمار یادو اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات

سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…

2 hours ago