سنت کبیر نگر: اتر پردیش کے سنت کبیر نگر ضلع میں مبلغ اسلام مولانا شمس الہدی خان پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ بدھ کے روز ای ڈی نے منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے ایک بڑے معاملے میں مولانا شمس الہدیٰ کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے ان کی رہائش گاہ سمیت چار مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ یہ کارروائی سنت کبیر نگر اور اعظم گڑھ میں واقع ان کے گھروں پر کی گئی، جہاں صبح سویرے لکھنؤ سے پہنچی ای ڈی کی ٹیموں نے تلاشی مہم شروع کی۔ ذرائع کے مطابق ای ڈی کی اس کارروائی کے دوران تقریباً 5.5 کروڑ روپے کے مشتبہ مالی لین دین اور 20 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے۔ جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مولانا شمس الہدیٰ نے برطانیہ کی شہریت حاصل کرنے کے باوجود طویل عرصے تک سرکاری تنخواہ اور بعد ازاں پنشن بھی وصول کی، جو کہ سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
بدھ کی صبح ای ڈی کی الگ الگ ٹیمیں سنت کبیر نگر اور اعظم گڑھ میں مولانا کے ٹھکانوں پر پہنچیں۔ سنت کبیر نگر میں تین افسران پر مشتمل ٹیم نے ان کی رہائش گاہ پر تلاشی لی۔ اس دوران گھر میں موجود افراد کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے اور مالی دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ شروع کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا شمس الہدیٰ ایک پرائمری اسکول میں استاد کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہی خدمات کے دوران ان پر مالی بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد ہوئے۔ تحقیقات کے مطابق اس معاملے میں اب تک تین مختلف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔ ای ڈی اور دیگر جانچ ایجنسیاں ان معاملات کی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہیں، جن میں سرکاری رقم کے مبینہ غلط استعمال، غیر قانونی مالی لین دین اور اثاثے جمع کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ معلومات کے مطابق شمس الہدیٰ خان کی تقرری 1984 میں ایک مدرسے میں بطور پرائمری استاد ہوئی تھی۔ بعد ازاں سال 2013 میں انہوں نے یونائیٹڈ کنگڈم کی شہریت حاصل کر لی۔
الزامات کے مطابق برطانوی شہریت حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے سال 2017 تک تنخواہ لینا جاری رکھا۔ یہی نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی 2023 تک پنشن وصول کرتے رہے۔ جانچ میں یہ چونکا دینے والا انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ سال 2013 میں برطانوی شہری بننے کے باوجود مولانا شمس الہدیٰ نے مبینہ طور پر 2017 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں ووٹ بھی ڈالا۔ اس پورے معاملے میں مولانا کے ساتھ ان کی اہلیہ، بیٹے اور بہو کے خلاف بھی الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ مالی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں تقریباً 5.5 کروڑ روپے چار مختلف بینک کھاتوں میں جمع ہوئے۔ یہ کھاتے مولانا شمس الہدیٰ، ان کی اہلیہ، بیٹے، بہو اور ان سے وابستہ این جی او ’’رضا فاؤنڈیشن‘‘ کے نام پر بتائے جا رہے ہیں۔ جانچ ایجنسیاں ان رقوم کے ذرائع اور استعمال کی تفصیل کھنگال رہی ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا یہ رقم قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی یا نہیں۔
اس کے ساتھ ہی تفتیش میں پچھلے پانچ سے سات برسوں کے دوران حاصل کی گئی 17 جائیدادوں کا بھی سراغ ملا ہے، جن کی مجموعی مالیت 20 کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ ای ڈی ان جائیدادوں کی خرید و فروخت کے دستاویزات، فنڈنگ کے ذرائع اور ملکیت سے متعلق کاغذات کی جانچ کر رہی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان میں مبینہ طور پر غیر قانونی رقم کا استعمال تو نہیں ہوا۔ ای ڈی حکام کے مطابق یہ معاملہ سرکاری ملازمت کے دوران غیر ملکی شہریت حاصل کرنے، اس کے باوجود تنخواہ اور پنشن لینے، مشتبہ مالی لین دین، جائیدادیں جمع کرنے اور انتخابی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی جیسے نہایت سنگین الزامات سے جڑا ہوا ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں اب بینک کھاتوں، جائیدادوں اور ووٹنگ سے متعلق ریکارڈ کی تفصیلی جانچ کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس معاملے میں مزید بڑی کارروائیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امریکا نے جمعرات کو ایک بڑا اور چونکا دینے والا فیصلہ کرتے ہوئے انفوسس، ٹی…
ماں بننے کے بعد کترینہ کیف کے وزن کو لے کر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ،…
نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…
میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…
مہاراشٹر کے ممبئی میں جمعرات کو ایک لیبر کیمپ میں بھیانک آگ لگنے کے بعد…