ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ (ای ڈی) نے آج 18 نومبر 2025 کو الفلاح گروپ کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA)، 2002 کی دفعہ 19 کے تحت گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ان شواہد کے تجزیے کے بعد سامنے آئی جو الفلاح گروپ سے متعلق مقامات پر چھاپوں کے دوران حاصل ہوئے تھے۔ یہ چھاپے ای ڈی کی اُس جاری تحقیقات کا حصہ تھے جو ایک ای سی آئی آر کی بنیاد پر درج کی گئی ہے۔
این اے اے سی اور یو جی سی کے جعلی دعووں پر تحقیق شروع
ای ڈی نے الفلاح گروپ کے خلاف کارروائی اُس وقت شروع کی جب دہلی پولیس کرائم برانچ نے دو ایف آئی آر درج کیں۔ ان ایف آئی آرز میں الزام تھا کہ الفلاح یونیورسٹی، فرید آباد نے جعلی اور گمراہ کن دعویٰ کیا کہ اسے این اے اے سی (NAAC) کی منظوری حاصل ہے تاکہ طلبہ، والدین اور متعلقہ فریقین کو دھوکے میں رکھ کر غیر قانونی فائدہ حاصل کیا جائے۔ یونیورسٹی نے غلط طور پر یہ بھی ظاہر کیا کہ اسے یو جی سی ایکٹ کی دفعہ 12(B) کے تحت منظوری ملی ہے، حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ یو جی سی نے وضاحت کی کہ الفلح یونیورسٹی صرف دفعہ 2(f) کے تحت ایک اسٹیٹ پرائیویٹ یونیورسٹی کے طور پر درج ہے، جبکہ 12(B) کے لیے کبھی درخواست ہی نہیں دی گئی اور نہ ہی وہ اس کی اہل ہے۔
ٹرسٹ کا ڈھانچہ اور مالی بے ضابطگیاں
الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ، جو 08.09.1995 کو قائم ہوا، اس کا بنیادی انتظام جواد احمد صدیقی کے پاس تھا جو پہلے ٹرسٹی اور مینجنگ ٹرسٹی تھے۔ تمام تعلیمی ادارے، یونیورسٹی اور کالجزاسی ٹرسٹ کے تحت چلتے ہیں اور مالی طور پر اسی کے تحت ضم ہیں۔ 1990 کی دہائی سے گروپ کی غیر معمولی ترقی سامنے آئی، لیکن اس ترقی کی پشت پر مناسب مالی شفافیت موجود نہیں تھی۔
چھاپے: کروڑوں کی مبینہ ہیرا پھیری اور شواہد کی برآمدگی
ای ڈی نے 18 نومبر 2025 کو دہلی میں 19 مقامات پر چھاپے مارے، جن میں یونیورسٹی کیمپس اور گروپ کے کلیدی افراد کی رہائش گاہیں شامل تھیں۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ جرائم کی آمدنی (Proceeds of Crime) کی بھاری رقم پیدا کی گئی۔ ٹرسٹ کے فنڈز فیملی کے زیرملکیت کمپنیوں میں منتقل کیے گئے۔ تعمیراتی اور کیٹرنگ کے ٹھیکے بھی جواد احمد نے اپنی بیوی اور بچوں کی کمپنیوں کو دیے۔ چھاپوں میں 48 لاکھ روپے نقدی، متعدد ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دستاویزی شواہد ضبط کیے گئے۔ گروپ کی متعدد شیل کمپنیاں بھی سامنے آئیں۔ کئی دیگر قوانین کی خلاف ورزیاں بھی ریکارڈ میں آئیں۔
فنڈز کی لیئرنگ اور منی لانڈرنگ کے واضح ثبوت
شواہد سے ثابت ہوا کہ ٹرسٹ کے کاموں پر اصل کنٹرول جواد احمد صدیقی کا تھا۔ فنڈز کی فیملی کنسرنز میں منتقلی, فنڈز کی لیئرنگ اور دیگر مالی ہیرا پھیری کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ نقدی اور مالی ریکارڈ کی برآمدگی نے جرم کے پیٹرن کو واضح کر دیا ہے۔
گرفتاری اور عدالت میں پیشی
جرم میں واضح شمولیت ثابت ہونے پر جواد احمد صدیقی کو آج قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ انہیں ای ڈی ریمانڈ کے لیے معزز عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…