دوارکا ہٹ اینڈ رن کیس میں مارے گئے ساحل کی والدہ غم سے بوجھل ہیں، اور اسی دوران ایک نیا اپ ڈیٹ سامنے آیا ہے۔ واقعے کے ملزم کے والد نے متاثرہ خاندان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہا کہ ان کے بیٹے سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات ختم ہونے کے بعد ان کا بیٹا خود کو پولیس کے حوالے کرے گا۔ والد نے یہ بھی واضح کیا کہ جس ایس یو وی کا استعمال ہوا وہ ان کے کمرشل فلیٹ کا حصہ ہے اور پہلے کے ٹریفک چالان دیگر ڈرائیورز کی وجہ سے ہوئے تھے، نہ کہ ان کے بیٹے کی وجہ سے۔ دوسری جانب، ملزم کے وکیل کا کہنا ہے کہ ملزم ذہنی دباؤ میں ہے اور صحیح طریقے سے امتحان نہیں دے پا رہا۔ اس کا خاندان بھی شدید دباؤ میں ہے اور انہیں متعدد افراد کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔
ملزم کے والد سامنے آئے، کیا کہا؟
ہٹ اینڈ رن کیس کے ملزم کے والد نے کہا کہ ’’میں بھی ایک والد ہوں اور اپنے بیٹے کو کھونے کے درد کو سمجھ سکتا ہوں۔ میرے بیٹے سے غلطی ہو گئی ہے، اس کے لیے میں معافی مانگتا ہوں۔ اس معاملے میں اس کے خلاف جو بھی قانونی کارروائی ہوگی، اس میں وہ پورا تعاون کرے گا اور خاندان بھی کرے گا۔ حادثے کے وقت کار میں بیٹا اور بیٹی دونوں موجود تھے اور دونوں میں سے کوئی بھی موقع سے فرار نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کار صرف کاروباری مقصد کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس کے لیے ڈرائیور بھی رکھا گیا ہے اور تمام چالان اس کی وجہ سے نہیں کٹے۔‘‘
ملزم کے وکیل نے کیا کہا؟
ملزم کے وکیل لال سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ حادثے میں ایک ماں نے اپنا بیٹا کھویا ہے، لیکن حادثے کے بعد سے ملزم کا پورا خاندان بھی دباؤ اور صدمے میں ہے، خاص طور پر ملزم جو اپنی بورڈ کے امتحان صحیح طریقے سے نہیں دے پا رہا ہے۔ اس کے رویے کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ وہ حادثے کے مقام سے نہیں بھاگا۔ خاندان بھی عدالت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور انہیں دھمکی آمیز فون مل رہے ہیں۔ ملزم اتنے دباؤ میں ہے کہ اس کے ساتھ کوئی غیر متوقع واقعہ بھی ہو سکتا ہے۔
ملزم 7 مارچ کو خود کو پولیس کے حوالے کرے گا
وکیل نے کہا کہ ملزم نے دسویں کلاس کے امتحان دینے کے لیے عبوری ضمانت لی تھی، لیکن امتحانات ختم ہونے کے بعد وہ خود کو پولیس اور عدالت کے سامنے پیش کرے گا۔ پھر عدالت ہی اس معاملے میں آگے کی کارروائی کرے گی۔ مقتول ساحل کی والدہ نے الزام لگایا کہ ملزم کو پیسوں کی وجہ سے ضمانت مل گئی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہے؛ ملزم کے بورڈ امتحانات تھے، اور مستقبل کو دیکھتے ہوئے عدالت نے ضمانت دی۔
ساحل کی والدہ کا غم
مقتول ساحل کی والدہ نے الزام لگایا کہ ملزم کو پیسوں کے بل پر ضمانت مل گئی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر تیز رفتاری سے کار چلائی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ اب ملزم کے والد کی معافی اور سرنڈر کے وعدے کے باوجود متاثرہ خاندان انصاف کی مانگ پر قائم ہے۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور عدالت میں اگلی سماعت 18 مارچ کو ہوگی۔
حادثہ کیسے ہوا؟
یہ حادثہ 19-20 فروری کو دوارکا ساؤتھ کے لال بہادر شاستری کالج کے قریب پیش آیا، جب بغیر لائسنس کے نابالغ نے کار چلائی اور ساحل کی بائیک کو ٹکر مار دی، پھر ایک کھڑی گاڑی سے ٹکرائی۔ پولیس کو صبح 11:57 بجے پی سی آر کال موصول ہوئی، جس کے بعد متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ ساحل موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ زخمی ٹیکسی ڈرائیور کو آئی جی آئی اسپتال منتقل کیا گیا۔ نابالغ کو حراست میں لے کر جیووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں 10 فروری کو دسویں کلاس کے بورڈ امتحان کی وجہ سے اسے عبوری ضمانت ملی۔ پولیس نے تینوں گاڑیوں کو ضبط کر لیا اور علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اکٹھا کیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اکاسا ایئر نے بتایا کہ پروازیں منسوخ ہونے سے متاثرہ مسافر مکمل رقم واپسی کا…
مرکزی وزیر مملکت برائے کھیل رکشا کھڈسے نے اس تاریخی پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے…
وائٹ ہاؤس کے مطابق میلانیا ٹرمپ اور ان کے نمائندے نے جنگ بندی کی شرائط…
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جن مساجد کو آج نقصان پہنچایا جا رہا ہے…
ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستانی…
یونیورسٹی کے مطابق، طلبا نے انتظامیہ کے خلاف اپنے مبینہ ہتک آمیزبیانات پرعوامی طورپرمعافی مانگنے…