قومی

Double blow to Tejashwi Yadav: تیجسوی کو ڈبل جھٹکا! انتخاب میں شکست، چھ ماہ میں بھائی–بہن کا ساتھ بھی چھوٹا، آئیے جانتے ہیں اختلاف کی وجہ اور کون ہیں سنجے اور رمیز؟

بہار اسمبلی انتخابات میں آر جے ڈی کی بدترین ناکامی کے بعد نہ صرف پارٹی ہل کر رہ گئی بلکہ لالو خاندان میں اختلافات نئی شدت کے ساتھ سامنے آ گئے ہیں۔ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے پہلے سیاست اور خاندان سے دوری کا اعلان کیا اور پھر سنجے یادو اور رمیز کو نشانے پر لیتے ہوئے گھر سے نکالے جانے اور ’’چپل اٹھا کر مارنے‘‘ جیسے سنگین الزامات لگائے۔ روہنی نے کہا کہ اُنہیں خاندان سے الگ کرنے کے پیچھے سنجے یادو، رمیز اور اپنے بھائی تیجسوی کا کردار ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اب میرا کوئی خاندان نہیں، انہی لوگوں نے مجھے نکالا ہے۔‘‘ روہنی نے اپنے جذباتی پوسٹ میں لکھا: ’’اکل ایک بیٹی، ایک بہن، ایک شادی شدہ عورت، ایک ماں کی تذلیل کی گئی، غلیظ گالیاں دی گئیں، مارنے کے لیے چپل اٹھایا گیا۔ میں نے اپنی عزت نفس سے سمجھوتہ نہیں کیا، سچائی کو کسی کے حوالے نہیں کیا اور صرف اسی وجہ سے مجھے ذلت برداشت کرنی پڑی۔ گزشتہ روز ایک بیٹی اپنے روتے ماں-باپ بہنوں کو چھوڑآئی۔ مجھ سے میرا مائیکا چھڑوایا گیا… مجھے یتیم کر دیا گیا…. آپ سب میرے راستے پر کبھی نہ چلیں۔ کسی گھر میں روہنی جیسی بیٹی – بہن پیدانہ ہو۔‘‘

کیوں نشانے پرہیں سنجے یادو؟

سنجے یادو پہلے بھی تنازع کی زد میں رہے ہیں۔ لالو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ کو پارٹی اور خاندان سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے کھلے عام سنجے کو ’’جے چند‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ سازش کے تحت خاندان میں دراڑ ڈال رہے ہیں۔ روہنی کے تازہ الزامات کے بعد ایک بار پھر سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا واقعی سنجے یادو ہی وہ شخصیت ہیں جن کی وجہ سے تیجسوی گزشتہ چھ ماہ میں اپنے بھائی اور اب بہن سے بھی دور ہو گئے؟

کون ہیں تیجسوی کے قریبی سنجے یادو؟

سنجے یادو 2013 سے تیجسوی کے سیاسی مشیر ہیں۔ ہریانہ کے مہندرگڑھ کے رہنے والے سنجے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں اور ڈیٹا اینالٹکس میں مہارت کی بنیاد پر آر جے ڈی انہیں راجیہ سبھا بھی بھیج چکی ہے۔ پارٹی کے فیصلوں سے لے کر انتخابی حکمت عملی تک، سنجے یادو کا اثر ہمیشہ نمایاں رہا ہے، جسے خاندان کے کئی افراد پسند نہیں کرتے۔

کون ہیں رمیز نعمت خان؟

لالو یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے ہفتے کو سیاست چھوڑنے اور خاندان سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا سنجے یادو اور رمیز نے کہا تھا۔ یہ نام نہ تو میڈیا میں زیادہ دیکھا گیا تھا اور نہ ہی بہار کی سیاست میں، لیکن روہنی کے الزام کے بعد یہ اچانک بحث کا موضوع بن گیا۔ رمیز نعمت خان تیجسوی یادو کے پرانے دوست اور اُن کی کور ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان کی دوستی کا سفر کرکٹ کے میدان سے شروع ہوا اور آگے چل کر سیاست تک پہنچا۔ رمیز نے دہلی اور جھارکھنڈ کی ٹیم کا حصہ رہے اور 2008-9 میں جھارکھنڈ U-22 ٹیم کے کپتان بھی منتخب ہوئے۔  آر جے ڈی ذرائع کے مطابق رمیز خان پارٹی کے سوشل میڈیا اور الیکشن میں تشہیری ٹیموں کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں اور تیجسوی کے سب سے قابل اعتماد لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ رامیز خان کا تعلق اتر پردیش سے ہے۔ ان کے سسر رضوان ظہیر یوپی کے بلرامپور (موجودہ شراستی) سے سابق ایم پی رہ چکے ہیں۔ رمیز خان کی اہلیہ زیبا رضوان تلسی پور اسمبلی حلقے سے دو بار الیکشن لڑچکی ہیں مگر کامیاب نہیں ہوئیں۔ رمیز نعمت خان پر متعدد سنگین الزامات ہیں جن میں پنچایت الیکشن تشدد (2021)، فیروز پپو قتل کیس (2022)، ٹھیکیدار شکیل خان قتل کیس (2023) اور گینگسٹر ایکٹ (2024) شامل ہیں۔ جولائی 2024 میں  انہیں گرفتار کیا گیا اور اپریل 2025 میں ضمانت مل گئی۔ رمیز خان کے خلاف بلرامپور میں 9 مقدمات جبکہ کوشامبی میں 2 مقدمے درج ہیں۔

روہنی اور سنجے کے درمیان کشیدگی کب شروع ہوئی؟

روہنی اور سنجے یادو کے درمیان اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب انتخابی مہم کے دوران تیجسوی کی ’’یاترا بس‘‘ میں پہلی سیٹ پر تیجسوی کی جگہ سنجے کو بیٹھا دیکھا گیا۔ روہنی نے اسے خاندان اور پارٹی میں عہدے کی بے قدری قرار دیا۔ یہیں سے ان کے تعلقات بگڑ گئے اور بالآخر خاندان کے اندر فاصلے بڑھتے گئے۔

چھ ماہ میں ٹوٹا بھائی–بہن کا ساتھ

گزشتہ چھ ماہ میں پہلے تیج پرتاپ اور پھر روہنی آچاریہ کا تیجسوی سے الگ ہو جانا آر جے ڈی کے لیے بڑا سیاسی اور خاندانی بحران بن چکا ہے۔ پارٹی کے اندر بھی یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا لالو خاندان میں بڑھتی خلیج آر جے ڈی کی قیادت پر براہ راست اثر ڈالے گی؟ روہنی اور تیج پرتاپ دونوں کے الزامات کے بعد یہ واضح ہے کہ خاندان کے اندر قیادت کے سوال پر کشمکش جاری ہے۔ سنجے یادو اور رمیز پر تنقید بڑھنے کے ساتھ آر جے ڈی میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا پارٹی کی اندرونی صف بندی بدلے گی اور تیجسوی کی قیادت کو چیلنج درپیش ہوگا؟

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

50 minutes ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

1 hour ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

11 hours ago