واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان کاروباری تعلقات کئی دہائیوں سے ’’مکمل طور پر یک طرفہ‘‘ اور ’’یک طرفہ تباہی‘‘ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اب محصولات (ٹیرِف) صفر کرنے کی پیشکش کی ہے مگر یہ قدم ’’بہت دیر سے‘‘ اٹھایا گیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیر کو ایک پوسٹ میں کہا کہ بھارت نے امریکی مصنوعات پر اتنے زیادہ ٹیرف عائد کیے ہیں کہ امریکی کاروبار بھارت میں فروخت کرنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ انہوں نے لکھا: ’’ہم بھارت کے ساتھ بہت کم کاروبار کرتے ہیں، لیکن وہ ہمارے ساتھ بے پناہ کاروبار کرتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنی سب سے بڑی منڈی سمجھتے ہیں مگر ہم انہیں بہت کم بیچتے ہیں — یہ دہائیوں سے مکمل طور پر یک طرفہ تعلق رہا ہے۔‘‘
روس سے خریداری پر تنقید
ٹرمپ نے مزید کہا: ’’بھارت اپنا زیادہ تر تیل اور دفاعی سازوسامان روس سے خریدتا ہے، امریکہ سے بہت کم۔ اب انہوں نے ٹیرف صفر کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن یہ برسوں پہلے ہونا چاہیے تھا۔‘‘ ٹرمپ نے سنسنی خیز دعویٰ یہ کیا ہے کہ بھارت نے اب اپنے ٹیرف کو زیرو کرنے کی پیشکش کردی ہے تاکہ امریکہ بھی اپنا ٹیرف واپس لے لے لیکن امریکہ اب اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ اب تک بھارت کی جانب نے اس دعوے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
امریکی محصولات اور تجارتی مذاکرات
امریکی صدر نے جولائی میں بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جو 27 اگست سے 50 فیصد ہو چکے ہیں۔ یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے (BTA) کے مذاکرات کے دوران کیے گئے۔ اس کے علاوہ، بھارت کے روسی تیل کے درآمدات پر بھی 25 فیصد اضافی ٹیرف لگایا گیا ہے۔
بھارت کا سابقہ ردعمل
بھارت کی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے کو ’’بدقسمتی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدامات ’’غیر منصفانہ، بلاجواز اور غیر ضروری‘‘ ہیں۔ بیان میں کہا گیا: ’’ہم اپنے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔‘‘
امریکی سفارتخانے کا مثبت پیغام
اسی دوران، بھارت میں امریکی سفارتخانے نے ایک پوسٹ میں کہا: ’’امریکہ اور بھارت کی شراکت داری 21 ویں صدی کا ایک فیصلہ کن تعلق ہے۔ یہ دوستی ہمارے عوام کو جوڑتی ہے اور ہمیں آگے بڑھاتی ہے۔‘‘ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق: ’’ہمارے عوام کے درمیان پائیدار دوستی ہمارے تعاون کی بنیاد ہے اور ہماری اقتصادی شراکت داری کو آگے بڑھاتی ہے۔‘‘
وزیراعظم مودی کا مؤقف
وزیراعظم نریندر مودی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ان کی حکومت چھوٹے کاروباریوں، کسانوں اور مویشی پالنے والوں کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گی، چاہے دباؤ کتنا ہی کیوں نہ ہو۔ تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ حکومت امریکی محصولات کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کرے گی۔ بھارت اور امریکہ نے رواں سال مارچ میں متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی دوطرفہ تجارتی معاہدہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کا پہلا مرحلہ اکتوبر-نومبر 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اڈانی احمد آباد مریاتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفشل جرسی جاری کر دی گئی۔ احمد…
پتنجلی یوگ پیٹھ پہنچنے پر سوامی رام دیو جی نے انتہائی احترام اور سادگی کے…
جیت اڈانی نے کہا، ’’اگرچہ وہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیں، لیکن کئی بار ان…
احتجاج کے دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈران پی ایم کے نام ایک میمورنڈم بھی…
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا، ’’حکومت…
بھارتی ٹیم نے 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 195 رنز بنائے اور…