قومی

Domestic air passenger traffic rises by 8.4%: اپریل 2025 میں بھارت کی گھریلو فضائی مسافر ٹریفک میں 8.45 فیصد اضافہ ریکارڈ

اپریل 2025 میں بھارت کی گھریلو فضائی مسافر ٹریفک میں 8.45 فیصد اضافہ ہوا، جس کے دوران ایئر لائنز نے 143.6 لاکھ مسافروں کو منتقل کیا، جو کہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، انڈیگو نے 64.1 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ سب سے زیادہ حصہ حاصل کیا، جبکہ ایئر انڈیا گروپ 27.2 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ دیگر ایئر لائنز میں اکاسا ایئر نے 5 فیصد اور اسپائس جیٹ نے 2.6 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کیا۔ جنوری سے اپریل 2025 تک گھریلو ایئر لائنز نے مجموعی طور پر 575.13 لاکھ مسافروں کو منتقل کیا، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 523.46 لاکھ کے مقابلے میں 9.87 فیصد سالانہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

وقت کی پابندی (On-Time Performance) کے لحاظ سے، جو کہ بنگلور، دہلی، حیدرآباد، اور ممبئی کے چار بڑے میٹرو ایئرپورٹس پر ماپا گیا، انڈیگو نے 80.8 فیصد کے ساتھ سب سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ اکاسا ایئر نے 77.5 فیصد اور ایئر انڈیا گروپ نے 72.4 فیصد وقت کی پابندی کے ساتھ اس فہرست میں اپنی جگہ بنائی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں فضائی سفر کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن وقت کی پابندی اب بھی کچھ ایئر لائنز کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔ مسافروں کی تعداد میں اضافہ نہ صرف معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ ایوی ایشن سیکٹر کی مضبوطی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

تاہم، بڑھتی ہوئی مانگ کے باوجود، ایوی ایشن سیکٹر کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) کی بلند قیمتیں اور عالمی معاشی حالات، جو ایئر لائنز کے اخراجات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، اسپائس جیٹ جیسی ایئر لائنز، جن کا مارکیٹ شیئر کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا، مالی مشکلات کا شکار ہیں، جو ان کی آپریشنل صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔ دوسری جانب، انڈیگو اور ایئر انڈیا گروپ جیسے بڑے کھلاڑی اپنی مارکیٹ پوزیشن کو مضبوط کر رہے ہیں، جو کہ سیکٹر میں بڑھتی ہوئی مسابقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ اضافہ بھارت کی گھریلو ایوی ایشن مارکیٹ کی مسلسل ترقی کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن اسے پائیدار بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، ایئرپورٹس کی صلاحیت میں اضافہ، اور ایئر لائنز کے آپریشنل چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ مسافروں کی تعداد میں اضافہ ایک مثبت علامت ہے، لیکن وقت کی پابندی، فلائٹ منسوخی، اور مسافروں کی شکایات جیسے مسائل پر توجہ دینا بھی ضروری ہے تاکہ مسافروں کا اعتماد برقرار رہے اور سیکٹر کی ترقی مستحکم ہو سکے۔

Rahmatullah

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

9 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

10 hours ago