1960 کے سندھ آبی معاہدے کو معطل کرنے کے مرکز کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اے آئی سی سی کے صدر ملکارجن کھرگے نے ہفتے کے روز سوال کیا کہ کیا ہندوستان کے پاس پاکستان جانے والے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کافی ڈیم موجود ہیں۔ کھرگے نے یہ بیان اس سوال کا جواب دیتے ہوئے دیا کہ کیا وہ پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی کے حکومت کے فیصلے سے مطمئن ہیں؟
انھوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’یہ غلطیاں تلاش کرنے کا وقت نہیں ہے۔ جب موقع ہوگا تب ہم اس پر بات کریں گے۔ لیکن ابھی سب کچھ کہنا اچھا نہیں ہے۔ جو کارروائی کی گئی اس کے کیا اثرات ہوں گے، یہ مستقبل کی بحث ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان سے بہنے والے پانی کو ہم کیسے روک سکتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس اسے ذخیرہ کرنے کے لیے کافی ڈیم ہیں؟ حکومت نے ابھی جو فیصلہ کیا ہے وہ ملک کے لیے بہتر ہے۔ اگر ہم نتائج دیکھے بغیر بس تنقید کرتے رہیں، تو یہ اچھی بات نہیں ہے۔‘‘
آل پارٹی میٹنگ سے وزیر اعظم کے غائب رہنے پر بھی اٹھائے سوال
انھوں نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں ہونے والی آل پارٹی میٹنگ میں حصہ نہ لینے پر وزیر اعظم مودی پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا ’’حکومت کی طرف سے مودی کو وہاں ہونا چاہیے تھا، لیکن انھوں نے میٹنگ چھوڑ دی، جو درست نہیں ہے۔ تاہم، ہم نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے کہا کہ وہ دہشت گردی پر قابو پانے کے چیلنج کو قبول کریں اور انھوں نے یقین دلایا کہ پہلگام جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔ ملک کے مفاد میں ہم نے سب سے کہا ہے کہ متحد رہیں اور حکومت نے جو بھی فیصلہ کیا ہے، اس کی حمایت کریں‘‘۔
بھارت ایکسپریس اردو
پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے کچھ رہنما دعویٰ…
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 4200 میٹر اور اس سے زیادہ بلندی والے علاقوں میں…
یہ ہائیڈرو پاور منصوبہ وسطی بھوٹان کے جھیمگانگ ضلع میں چامکھرچھو دریا پر قائم کیا…
منگل کی علی الصبح 4:27 بجے منی پور کے تامینگ لونگ میں بھی 2.9 شدت…
دماغ ہماری جذبات، رویوں اور جسم کی مختلف سرگرمیوں کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے،…
طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…