قومی

”ایس آئی آر مہم میں تاخیر…“رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے خط لکھ کر مین پوری کے ڈی ایم کے طریقہ کار پر اٹھائے سوال

اترپردیش کے مین پوری لوک سبھا حلقہ سے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے ضلع مجسٹریٹ کوخط لکھا ہے۔ خط میں ایم پی نے ضلع میں جاری ایس آئی آرمہم کے دوسرے مرحلے کے کام کاج پرسنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ووٹروں کوبغیرمیپنگ کے بہت تاخیرسے نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔ ایس آئی آرمہم سے متعلق ایسا کہا جا رہا ہے کہ یہ کام تقریباً 10 دنوں کی تاخیر سے شروع کیا گیا ہے۔ موجودہ سسٹم کے تحت ہراسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرہردن صرف تقریباً 150 نوٹس جاری کرسکتا ہے۔ ڈمپل یادونے کہا کہ اس طرح کے نوٹس جلد ازجلد جاری کئے جائیں۔

ڈمپل یادو نے خط میں کیا لکھا؟

ڈمپل یادو نے اپنے خط میں لکھا کہ ایس آئی آرکا دوسرا مرحلہ تقریباً 10 دنوں کی تاخیر سے شروع ہوا ہے، جس سے پوری مہم کا شیڈول متاثرہوا۔ موجودہ نظام کے تحت، ہراسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر(اے ای آراو) اوسطاً روزانہ صرف 150 نوٹس جاری کررہا ہے۔ ان نوٹس کونمٹانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مقررکی گئی ہے، جسے رکن پارلیمنٹ نے ناقابل عمل قرار دیا۔ ڈمپل یادونے کہا کہ یہ نقطہ نظرضلع میں تمام غیرمیپ شدہ ووٹروں کے معاملات کوبروقت حل کرنے سے روک دے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ نقطہ نظرغیرتسلی بخش ہے اورایس آئی آرمہم کے بنیادی مقصد کونقصان پہنچا رہا ہے۔

رام گوپال یادو نے بھی اٹھائے تھے سوال

ڈمپل یادو سے پہلے رام گوپال یادو نے کہا تھا کہ ملک میں ایس آئی آر کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو یہ عمل چل رہا ہے وہ ”اقتدارمیں بنے رہنے کے لئے ہتھکنڈے“ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرکوئی ہتھکنڈوں سے اقتدارمیں آتا ہے تو ملک میں نیپال اوربنگلہ دیش جیسے نتیجے دیکھنے کو ملیں گے۔ رام گوپال یادو نے کہا کہ ایس آئی آر کی بالکل بھی ضرورت نہیں تھی۔ کیا 2014 سے پہلے ایس آئی آرہوا تھا؟ یہ سب اقتدار میں بنے رہنے کے ہتھکنڈے ہیں۔ میں نے آل پارٹی میٹنگ میں بھی کہا تھا کہ اگرکوئی عام طریقے سے ووٹ کے ذریعہ اقتدارمیں آتا ہے تو کوئی اس کی مخالفت نہیں کرتا، لیکن اگرکوئی ہتھکنڈوں سے اقتدارمیں آتا ہے تولوگ نیپال اوربنگلہ دیش میں اس کے نتائج دیکھ چکے ہیں۔

6 فروری تک درج کراسکتے ہیں اعتراضات

اس سے پہلے، اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر(سی ای او) نودیپ رِنوا نے جمعہ کے روزاعلان کیا کہ ایسے ووٹروں کونوٹس بھیجے جا رہے ہیں جن کی تفصیلات 2026 کے انتخابی رول کے اسپیشل انٹینسیوریویژن (ایس آئی آر) میں فراہم کردہ 2003 کے ریکارڈ سے میل نہیں کھاتی ہیں۔ اترپردیش میں ایس آئی آرایکسرسائزکے لیے دعووں اوراعتراضات کی مدت 6 جنوری کو شروع ہوئی اور6 فروری تک جاری رہے گی۔ اترپردیش کے ووٹرلسٹ کی حتمی اشاعت 6 مارچ کو جاری کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

3 minutes ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

11 minutes ago

Manisha Bhanwala Makes History: منیشا بھنوالا نے رقم کی تاریخ، عالمی کشتی چیمپئن شپ میں ہندوستان کو دلایا پہلا طلائی تمغہ

ہندوستانی خاتون پہلوان منیشا بھنوالا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے قزاقستان کے آستانہ میں جمعہ…

1 hour ago