قومی

Digitization and Preservation of Archival Repositories: جامعہ ہمدردر میں ’’آرکائیول ذخائر کی ڈیجیٹائزیشن اور تحفظ‘‘ پرمشتمل ورکشاپ کا افتتاح

نئی دہلی: ایچ ایم ایس مرکزی کتب خانہ، جامعہ ہمدرد کے زیر اہتمام اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (IGNCA)، وزارت ثقافت، حکومتِ ہند، اور مولانا ابوالکلام آزاد عربی فارسی تحقیقی ادارہ، حکومت راجستھان کے اشتراک سے ایک ہفتے پر مشتمل ورکشاپ بعنوان ’’آرکائیول ذخائر کی ڈیجیٹائزیشن اور تحفظ‘‘ کا آغاز 13 اکتوبر سے 17 اکتوبر 2025 تک کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام جامعہ ہمدرد کے معزز چانسلر جناب حماد احمد صاحب کی سرپرستی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

حکیم عبد الحمید کی خدمات کو خراج تحسین

ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی وویک اگروال، سکریٹری وزارت ثقافت، حکومت ہند نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جامعہ ہمدرد کی علمی خدمات کو سراہا اور بانی حکیم عبد الحمید صاحب کی بے لوث خدمت کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ہمدرد ایک منفرد ادارہ ہے جو وقف کی بنیاد پر قائم ہے اور درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے طلباء کو روزگار پر مبنی تعلیم فراہم کرتا ہے۔

نادر مخطوطات کے ڈیجیٹائزیشن اور تحفظ  پر زور

وویک اگروال نے اس بات پر زور دیا کہ اس ادارے کی قیادت ہمیشہ اعزازی بنیادوں پر خدمت کرتی آئی ہے جو کہ آج کے تجارتی رجحان رکھنے والے تعلیمی اداروں سے مختلف اور قابلِ تقلید ہے۔ انہوں نے ’’گیان بھارت‘‘ پہل کی اہمیت پر روشنی ڈالی جو قدیم مخطوطات پر تحقیق، مختلف زبانوں، رسم الخطوں اور سائنسی و ادبی شعبہ جات جیسے ریاضی، فلکیات اور فنون لطیفہ میں بین شعبہ جاتی تحقیق کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہزاروں نادر مخطوطات موجود ہیں جن میں سے بیشتر نجی ذخائر میں پوشیدہ ہیں اور اب تک علمی دنیا کی رسائی سے دور ہیں۔ ان کی ڈیجیٹائزیشن اور تحفظ کے ذریعے ہندوستان عالمی علمی و ثقافتی منظرنامے پر نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

ہندوستانی ثقافتی ورثے کا تحفظ ضروری

ڈاکٹر سچدانند جوشی، ممبر سکریٹری IGNCA نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ہندوستانی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ڈیجیٹائزیشن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ہمدرد اور IGNCA کی یہ مشترکہ کوشش نئی نسل کو اس اہم ذمے داری کے لیے تیار کرنے کا ایک مؤثر اقدام ہے جو وزیراعظم کے ویژن ’’وراثت بھی، ترقی بھی‘‘ کے مطابق ہے۔

آرکائیوز تہذیب کی زندہ یادداشت

جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر، پروفیسر (ڈاکٹر) ایم افشار عالم نے صدارتی خطاب میں کہا کہ آرکائیوز تہذیب کی زندہ یادداشت ہوتے ہیں۔ انہوں نے جسمانی دستاویزات کے تحفظ اور ان کی ڈیجیٹل رسائی کو ایک دوہری ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے وزارتِ ثقافت اور IGNCA کی مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعہ ہمدرد وزارتِ ثقافت کے اشتراک سے ورثے کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص مرکز کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔

ہندوستان کے مختلف حصوں سے مندوبین کی شرکت

ڈاکٹراختر پرویز، یونیورسٹی لائبریرین، جامعہ ہمدرد نے استقبالیہ کلمات میں بتایا کہ اس ورکشاپ میں پورے ہندوستان سے مندوبین شرکت کر رہے ہیں جن میں پڈوچیری، تمل ناڈو، حیدرآباد، گوا، ممبئی، رائے پور، بھوپال، علی گڑھ، دہلی، سونی پت، روہتک، پنجاب اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتے پر مشتمل اس ورکشاپ میں ڈیجیٹائزیشن، تحفظ اور آرکائیول تکنیکوں کے بنیادی اصولوں سے لے کر جدید طریقوں تک کے موضوعات پر عملی تربیت دی جائے گی۔ تقریب کا اختتام پروفیسر ایم اے سکندر، ڈائریکٹر مرکز برائے فاصلاتی اور آن لائن تعلیم اوراوایس ڈی (انتظامیہ)، جامعہ ہمدرد کے شکریہ کے کلمات پر ہوا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

5 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

5 hours ago