قومی

Did India Overstate GDP Growth: کیا بھارت نے جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھا چڑھا کر کی پیش؟ نئی تحقیق نے 2.5 فیصد کے دعوے پر اٹھا دیے سوال

بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح سے متعلق ایک نئی تجزیاتی رپورٹ نے ان دعوؤں کو چیلنج کیا ہے کہ ملک کی جی ڈی پی شرح نمو کو ہر سال تقریباً 2.5 فیصد پوائنٹس زیادہ ظاہر کیا گیا۔ تجزیے کے مطابق ایسے نتائج کا انحصار بڑی حد تک استعمال کیے گئے اعداد و شمار، موازنہ کرنے والے ممالک اور شماریاتی طریقہ کار پر ہوسکتا ہے۔ یہ بحث اس دعوے کے گرد گھوم رہی ہے کہ بھارت کی حقیقی اقتصادی ترقی سرکاری اعداد و شمار میں ظاہر کی گئی شرح سے کہیں کم رہی ہے۔ تاہم نئی تحقیق نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس دعوے کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار ملک کی حقیقی اقتصادی کارکردگی کی قابل اعتماد تصویر پیش کرتا ہے۔

’سنتھیٹک انڈیا‘ کے طریقہ کار پر سوال

تجزیے میں بھارت کے جی ڈی پی اعداد و شمار کا دیگر ممالک کے اعداد و شمار کے ساتھ موازنہ کیا گیا اور مختلف شماریاتی طریقوں کے ذریعے بھارت کی ترقی کی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔اس تحقیق میں شامل محققین نے بھارت سے مماثل سمجھے جانے والے مختلف ممالک کے اعداد و شمار کو ملا کر ایک ’سنتھیٹک انڈیا‘ تیار کیا۔ اس طریقے کا مقصد یہ اندازہ لگانا تھا کہ اگر بھارت کی جگہ اسی طرح کی اقتصادی خصوصیات رکھنے والے ممالک کا مجموعہ ہوتا تو اس کی ترقی کی شرح کیا ہوسکتی تھی۔تاہم نئی تجزیاتی رپورٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ طریقہ بھارت کی معیشت کی پیچیدگیوں کی درست نمائندگی کر سکتا ہے۔ بھارت اور دیگر ممالک کے درمیان اقتصادی ڈھانچے، ترقی کی سطح، صنعتوں کی نوعیت اور اعداد و شمار کے معیار میں نمایاں فرق موجود ہے۔ ایسے میں مختلف ممالک کے ڈیٹا کو ملا کر بھارت کی حقیقی کارکردگی کا اندازہ لگانا مکمل طور پر درست نتیجہ دے گا یا نہیں، اس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

موازنہ بدلنے سے نتیجہ بھی بدل سکتا ہے

تجزیے کے مطابق موازنے کے لیے منتخب کیے گئے ممالک، استعمال کیے گئے ڈیٹا سیٹس اور زیر مطالعہ مدت میں تبدیلی سے حتمی نتیجہ نمایاں طور پر بدل سکتا ہے۔ اس لیے کسی ایک مخصوص گروپ یا بینچ مارک کی بنیاد پر بھارت کی جی ڈی پی شرح نمو کے بارے میں وسیع نتیجہ اخذ کرنا احتیاط کا متقاضی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ اقتصادی اعداد و شمار کا جائزہ لیتے وقت صرف منتخب اعداد و شمار پر توجہ دینے کے بجائے وسیع تر معاشی پس منظر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

شفاف طریقہ کار کی ضرورت

نئی تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بھارت کی اقتصادی ترقی پر بحث سیاسی یا محدود شماریاتی موازنے کے بجائے قابل اعتماد اعداد و شمار اور شفاف طریقہ کار کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مختلف طریقوں سے مختلف نتائج سامنے آسکتے ہیں، اس لیے 2.5 فیصد پوائنٹس کی سالانہ مبینہ زیادتی کے دعوے کو حتمی حقیقت سمجھنے سے پہلے اس کے طریقہ کار اور ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔یوں نئی تحقیق نے بھارت کی جی ڈی پی شرح نمو کے اعداد و شمار پر جاری بحث کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ کر دیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ کسی معیشت کی حقیقی ترقی کا اندازہ لگانے کے لیے درست ڈیٹا، مناسب موازنہ اور شفاف شماریاتی طریقہ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Swami Kailashanand Giri Navratri Sadhana: حیرت انگیز تپسیا…! 111 ڈگری درجہ حرارت میں بھی سوامی کیلاش آنند گری کی سادھنا جاری

ہریدوار میں آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی کیلاش آنند گری مہاراج کی ساون کے بعد اب نوراتری…

2 minutes ago

Important announcement by IndiGo and Adani Airports: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کی توسیع کا منصوبہ، فروری 2027 سے شروع ہوگا نیا مرحلہ

انڈیگو چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روزانہ 12 بین الاقوامی پروازیں نوی…

11 minutes ago

PM Modi Tribute: پی ایم مودی نے بھائی پرمانند کی قربانیوں کو کیا یاد، کہا- مجاہد آزادی نے بھگت سنگھ کو بھی تعلیم دی

وزیر اعظم نریندر مودی نےآئندہ 4 نومبر کو عظیم مجاہد آزادی اور سماجی مصلح بھائی…

23 minutes ago

Iranian Oil Tanker: ایرانی تیل بردار جہازوں پر سوار 27 ملاح بیمار، سری لنکا سے طبی مدد طلب

سری لنکا نے اتوار کو بتایا کہ اس کی سمندری حدود کے قریب پھنسے ایرانی…

1 hour ago