قومی

AAP Crisis: عام آدمی پارٹی میں بڑی بغاوت، سات راجیہ سبھا اراکین بی جے پی میں شامل

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے پی پی) کو ایک بڑے سیاسی جھٹکے کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں پارٹی کے سات راجیہ سبھا اراکین نے اچانک بغاوت کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کر لی۔ ذرائع کے مطابق پارٹی سربراہ اروند کیجریوال کو اس بغاوت کی پیشگی اطلاع مل چکی تھی اور انہوں نے ناراض رہنماؤں کو منانے کی کوشش بھی کی، تاہم یہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔اطلاعات کے مطابق کیجریوال نے باغی اراکین سے رابطہ قائم کرتے ہوئے ان کے تحفظات جاننے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے یہاں تک پیشکش کی کہ اگر ان پر کسی قسم کا دباؤ ہے تو وہ استعفیٰ دے سکتے ہیں اور مستقبل میں انہیں دوبارہ راجیہ سبھا بھیجا جا سکتا ہے۔ جمعہ کے روز ملاقات کا وقت بھی طے کیا گیا تھا، مگر اس سے قبل ہی ان اراکین نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

اس پورے معاملے میں راگھو چڈھا کا نام مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ حال ہی میں انہیں راجیہ سبھا میں نائب لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے دیگر اراکین سے رابطے تیز کر دیے۔ باغی رہنماؤں میں سندیپ پاٹھک، سواتی مالیوال ، اشوک متل، وکرم جیت ساہنی، راجندر گپتا اور سابق کرکٹر ہربھجن سنکھ شامل ہیں۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونگ مان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے ہربھجن سنگھ سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پوری حکمت عملی گزشتہ دو ہفتوں سے تیار کی جا رہی تھی، تاہم رگھو چڈھا کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اس عمل میں تیزی آ گئی اور منصوبہ طے شدہ وقت سے پہلے ہی مکمل کر لیا گیا۔اس سیاسی ہلچل کے اثرات راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کی طاقت پر واضح طور پر نظر آئیں گے، جہاں پارٹی کی عددی حیثیت کمزور ہو جائے گی جب کہ بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی ان نئے شامل ہونے والے لیڈروں کو خاص طور پر پنجاب میں اےپی پی حکومت کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس دن یہ بڑا سیاسی واقعہ پیش آیا، اسی روز کیجریوال اپنے نئے سرکاری رہائش گاہ میں منتقل ہوئے تھے۔ پارٹی کے سینئر لیڈرسنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط لکھ کر رگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک مِتّل کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق بی جے پی قیادت کی منظوری کے بعد باغی اراکین نے پہلے راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط پیش کیا، پھر میڈیا کے سامنے آ کر اپنی پوزیشن واضح کی اور اس کے بعد پارٹی صدر سے ملاقات کی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان سات اراکین میں سے کسی ایک سینئرلیڈر کو وزیر اعظم نریند رمودی  کی کابینہ میں بھی جگہ دی جا سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

3 hours ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

5 hours ago