مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان
پٹنہ: بی جے پی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر تیجسوی یادو کے نوکری دینے کے وعدے کو ’جھوٹا اور ناممکن‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ پردھان ، جو بہار اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کے انچارج ہیں، نے کہا کہ تیجسوی یادو کے والد لالو پرساد یادو کے دورِ حکومت میں ’نوکری کے بدلے زمین ‘ گھوٹالہ ہوا تھا اور آج انہی کے بیٹے دوبارہ نوکریوں کے وعدے کر رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے انٹرویو میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ ’’بہار میں تقریباً 2.75 کروڑ خاندان ہیں اور ریاست کا بجٹ تقریباً تین لاکھ کروڑ روپے کا ہے۔ اگر ہر خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری دی جائے تو صرف تنخواہوں پر 12 سے 15 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ یہ ایسے ہی وعدے ہیں جیسے سورج، چاند اور تارے دینے کا دعویٰ کیا جائے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہار کے نوجوان مالی آزادی چاہتے ہیں اور انہیں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ ریاست کی ترقی کو نئی رفتار دیں گے۔ ’’بہار کے نوجوان جانتے ہیں کہ کون ان کے خواب پورے کر سکتا ہے۔ جن لوگوں نے عوام کی زمین چھینی اور اپنی سیاست کو صرف خاندانی مفادات تک محدود رکھا، وہ نوجوانوں کو روزگار کیسے دیں گے؟‘‘ پرادھان نے طنزیہ انداز میں کہا۔ وزیر نے مزید کہا کہ جب وزیر اعظم مودی یہ کہتے ہیں کہ ’دو بھائی، مودی اور نتیش، بہار کو آگے بڑھائیں گے‘ تو عوام کو اس پر یقین ہوتا ہے، کیونکہ یہ ترقی اور شفافیت کی گارنٹی ہے۔
دوسری جانب، مہاگٹھ بندھن (آر جے ڈی، کانگریس اور دیگر اتحادیوں پر مشتمل اتحاد) نے اپنے انتخابی منشور ’بہار کا تیجسوی پرن‘ میں ہر خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کا وعدہ کیا ہے۔ منشور کے مطابق، ’مائی-بہن مان یوجنا‘ کے تحت خواتین کو ہر ماہ 2,500 روپے مالی امداد دی جائے گی جو یکم دسمبر سے اگلے پانچ سال تک جاری رہے گی۔ اتحاد نے اپنے منشور میں پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) کو دوبارہ نافذ کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ کانگریس کی حکومت نے ہماچل پردیش میں اقتدار سنبھالتے ہی او پی ایس بحال کر دی تھی اور اسے ہریانہ کے اسمبلی انتخابات کے منشور میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
مہاگٹھ بندھن نے وقف (ترمیمی) قانون کو بھی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وقف جائیدادوں کے انتظام کو فلاحی اور شفاف بنایا جائے گا۔ پارلیمنٹ نے اس سال وقف (ترمیمی) بل کو منظور کیا تھا جسے صدر جمہوریہ نے 5 اپریل کو اپنی منظوری دی تھی۔ منشور میں مذہبی اقلیتوں سے متعلق ایک اور وعدہ یہ کیا گیا ہے کہ بودھ گیا میں واقع بدھ مندروں کا انتظام بدھ کمیونٹی کے حوالے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مہاگٹھ بندھن نے پنچایت اور بلدیاتی اداروں میں انتہائی پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن 20 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کرنے، دلتوں کے لیے 16 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے اور قبائلی طبقات کے لیے بھی متناسب اضافہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ہر خاندان کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے، کسانوں کی تمام فصلوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریدنے، منڈی کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کرنے اور اے پی ایم سی ایکٹ بحال کرنے کا اعلان بھی منشور میں شامل ہے۔ اتحاد نے یہ بھی کہا کہ ہر شہری کو 25 لاکھ روپے تک کا مفت صحت بیمہ ’جن سواستھیہ سرکشا یوجنا‘ کے تحت دیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں تاریخی ووٹنگ کے بعد، 20 اضلاع کی 122 اسمبلی نشستوں پر دوسرے مرحلے کے لیے 11 نومبر کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو کی جائے گی۔ ان میں مشرقی چمپارن کی 11، مدھوبنی اور گیا کی 10-10، مغربی چمپارن کی 9، سیتامڑھی کی 8، اور بھاگلپور، روہتاس، پورنیہ و کٹیہار کی 7-7 نشستیں شامل ہیں، جبکہ ارریہ اور اورنگ آباد کی 6 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…