قومی

Student Protest Political Pressure: نیٹ سے لے کر 2جی تک… بھارت میں عوامی تحریکوں کے دباؤ پر کب کب وزراء کو دینا پڑا استعفیٰ؟

اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں اتوار کی صبح گنگا ایکسپریس وے پر ایک المناک سڑک حادثہ پیش آیا۔ بہجوئی تھانہ علاقے کے لہراون انٹرچینج کے قریب بہرائچ سے پنجاب جا رہی ایک ڈبل ڈیکر بس بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی اور الٹ گئی۔ اس حادثے میں دو مسافروں کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ بس میں تقریباً 150 مسافر سوار تھے، جن میں زیادہ تر پنجاب مزدوری کے لیے جا رہے تھے۔ حادثے کے بعد موقع پر چیخ و پکار مچ گئی اور مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی۔

ڈرائیور کو اونگھ آنے سے پیش آیا حادثہ

اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ اتوار کی صبح تقریباً چھ بجے گنگا ایکسپریس وے کے کلو میٹر 126/400 پر پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بس تیز رفتاری سے جا رہی تھی کہ اچانک ڈرائیور کو نیند کی جھپکی آ گئی، جس سے بس بے قابو ہو گئی۔ مسافروں نے آواز دے کر ڈرائیور کو متوجہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس سے پہلے کہ وہ بس پر قابو پاتا، گاڑی ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی۔

دو افراد ہلاک، متعدد زخمی

حادثے میں 17 سالہ نہا، دختر گنگارام، ساکن گجاپور، بہرائچ اور 36 سالہ پنٹو، ولد للّن، ساکن گونڈا موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ جبکہ سریندر کمار، منّالال، انیتا، اروند، شوبھت، گڈو، پونم، گیتا، رومانہ، راما دیوی، ستو، پنکج، وپن، رشبھ سنگھ، مہیش، دنیش اور چھوٹو سمیت 25 سے زائد مسافر زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو بہجوئی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا، جبکہ شدید زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے اعلیٰ طبی مراکز بھیجنے کی تیاری کی گئی۔

پولیس اور ایمبولینس ٹیموں کا ریسکیو آپریشن

حادثے کی اطلاع ملتے ہی یوپیڈا، بہجوئی پولیس اور 108 ایمبولینس سروس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو آپریشن کے دوران زخمیوں کو بس سے باہر نکال کر فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں کرین کی مدد سے حادثہ زدہ بس کو شاہراہ سے ہٹا کر ٹریفک بحال کر دیا گیا۔

حکام نے معائنہ کیا، تحقیقات شروع

سی ایم او ڈاکٹر ترون پاٹھک اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (شمالی) منوج راوت نے اسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور ڈاکٹروں کو بہتر علاج کی ہدایت دی۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجہ ڈرائیور کو آنے والی نیند کی جھپکی بتائی جا رہی ہے، تاہم معاملے کی مکمل چھان بین جاری ہے۔ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا بس ڈرائیور اور ٹرانسپورٹ کمپنی نے حفاظتی ضابطوں پر عمل کیا تھا یا نہیں۔ حادثے کے بعد جاں بحق افراد کے اہل خانہ میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ انتظامیہ نے زخمیوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

2 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

3 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

3 hours ago