نئی دہلی : اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی 10 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی نے اپنے پتے کھولتے ہوئے تجربہ کار پارلیمانی لیڈر پروفیسر رام گوپال یادو کے ساتھ صنعت اور کھیل انتظامیہ سے وابستہ دھن راج پرمل ناتھوانی کو امیدوار بنایا ہے۔ ناتھوانی کا نام سامنے آنے کے ساتھ ہی راجیہ سبھا انتخابات کی سیاست میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ایس پی صدر اکھلیش یادو کی موجودگی میں دونوں امیدواروں نے بدھ کو اسمبلی احاطے میں واقع انتخابی دفتر میں نامزدگی کے کاغذات داخل کیے۔ نامزدگی کے دوران اکھلیش یادو دھن راج ناتھوانی کے ساتھ نظر آئے۔ اس موقع پر ایس پی کے سینئر رہنما اور ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔ پارٹی نے دونوں ناموں کا اعلان اپنے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعے کیا۔دھن راج ناتھوانی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ میں گروپ صدر ہیں۔ ان کی پروفائل کے مطابق وہ 2010 سے ریلائنس گروپ سے مختلف عہدوں پر وابستہ ہیں اور مالیات، اکاؤنٹنگ، خریداری، انسانی وسائل، کارپوریٹ امور اور سکیورٹی سمیت کئی غیر تکنیکی شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ وہ ریلائنس نیو انرجی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ ناتھوانی کھیل انتظامیہ میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔
اس سے پہلے وہ گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر رہ چکے ہیں۔ ان کی پروفائل کے مطابق احمد آباد کے نریندر مودی کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر سے متعلق منصوبے میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ وہ گجرات اسٹیٹ فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دوارکا دیوستھان کمیٹی کے نائب صدر بھی ہیں۔ دھن راج ناتھوانی کے والد پرمل ناتھوانی ریلائنس انڈسٹریز سے وابستہ رہے ہیں اور راجیہ سبھا کے رکن بھی ہیں۔ دھن راج کا تعلیمی پس منظر بھی کاروباری شعبے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے لندن کے ریجنٹس بزنس اسکول سے انٹرنیشنل بزنس کی تعلیم حاصل کی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سے کارپوریٹ لا اور پبلک ریلیشنز مینجمنٹ میں تخصص کے ساتھ ایم بی اے کیا ہے۔ایس پی کے دوسرے امیدوار رام گوپال یادو پارٹی کے اہم پارلیمانی چہروں میں شامل ہیں۔ طویل عرصے سے راجیہ سبھا میں پارٹی کی نمائندگی کرنے والے رام گوپال یادو کا نام ایس پی کے پارلیمانی امور میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں پارٹی نے ایک طرف تجربہ کار پارلیمانی چہرے کو دوبارہ میدان میں اتارا ہے، جبکہ دوسری جانب صنعت اور کھیل انتظامیہ سے وابستہ نئے چہرے کو موقع دیا ہے۔ اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی 10 نشستوں کے لیے 16 اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی اور اسی دن ووٹوں کی گنتی بھی کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کے پروگرام کے مطابق نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 6 اکتوبر ہے۔ موجودہ اسمبلی کی عددی قوت کے حساب سے ایک راجیہ سبھا رکن کے انتخاب کے لیے 37 پہلی ترجیح کے ووٹ درکار ہوں گے۔
#WATCH | Lucknow, UP: Samajwadi Party candidate for the Rajya Sabha elections, Prof. Ram Gopal Yadav, files his nomination papers in the presence of party president Akhilesh Yadav. pic.twitter.com/CwkaDhZk7S
— ANI (@ANI) September 30, 2026
ایس پی کے سامنے اصل چیلنج تیسری نشست کا ہے۔ پارٹی کے پاس دو امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لیے مطلوبہ عددی قوت موجود ہے، لیکن تیسرے امیدوار کے لیے اسے اضافی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ اسی وجہ سے انتخابات میں پہلی ترجیح کے ساتھ دوسری اور تیسری ترجیح کے ووٹ بھی اہم ہو جائیں گے۔ راجیہ سبھا انتخابات میں ارکان اسمبلی ترجیحی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ مقررہ کوٹا حاصل کرنے والے امیدوار کو منتخب قرار دیا جاتا ہے۔ کسی امیدوار کے پاس اضافی ووٹ ہونے کی صورت میں ان ووٹوں کی منتقلی اور اگلی ترجیحات کے ووٹ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے آخری مرحلے میں ارکان اسمبلی کی عددی قوت اور ان کی ووٹنگ حکمت عملی پر سیاسی جماعتوں کی نظر رہے گی۔ایس پی ذرائع کے مطابق پارٹی تیسرے امیدوار کو میدان میں اتارنے کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس کے لیے اسے اپنی موجودہ عددی قوت کے علاوہ اضافی ارکان اسمبلی کی حمایت درکار ہوگی۔ پارٹی کی حکمت عملی میں گزشتہ انتخابات میں الگ رخ اختیار کرنے والے ارکان اسمبلی کو دوبارہ اپنے ساتھ لانے کی کوشش بھی شامل بتائی جا رہی ہے۔ گزشتہ راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے والے ایس پی کے کچھ ارکان اسمبلی اس بار بھی سیاسی حساب کتاب کا اہم حصہ ہیں۔ ایس پی کو امید ہے کہ ان میں سے کچھ ارکان اسمبلی اس کے ساتھ واپس آ سکتے ہیں۔ تاہم، حتمی تصویر نامزدگی کی آخری تاریخ ختم ہونے اور سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی واضح ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
دوسری جانب، بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے پاس اسمبلی میں کافی عددی قوت ہونے کی وجہ سے آٹھ نشستوں کے انتخاب کا حساب اس کے حق میں سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، اگر ایس پی تیسرا امیدوار میدان میں اتارتی ہے تو اضافی ووٹوں کو لے کر دونوں خیموں میں سیاسی سرگرمی بڑھ سکتی ہے۔ اس طرح ایس پی نے رام گوپال یادو اور دھن راج ناتھوانی کے ناموں کے ساتھ راجیہ سبھا انتخابات کی ابتدائی تصویر تو واضح کر دی ہے، لیکن تیسرے امیدوار کو لے کر سسپنس ابھی برقرار ہے۔ اب نظر اس بات پر ہے کہ ایس پی تیسرے امیدوار کو میدان میں اتارتی ہے یا نہیں اور اگر اتارتی ہے تو اس کے لیے ضروری اضافی ووٹوں کا انتظام کس طرح کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نیرو ڈھانڈا اور کینن چنائی کی جوڑی نے 34 پوائنٹس کے ساتھ نیا ایشین گیمز…
ریلی میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں بی جے پی کارکنوں کے…
وائٹ ہاؤس کی ملاقات میں میٹا کے مارک زکربرگ، گوگل کے سندر پچائی اور ایلون…
تلاشی کے دوران کشتی سے تقریباً 526 کلو گرام ممنوعہ منشیات برآمد ہوئی۔ اس میں…
ایک پوسٹر پر لکھا ہے، ’انڈیا الائنس کا دوغلا پن، جیتے تو ای سی آئی…
چار سیریز پر مشتمل گولڈ میڈل میچ میں بھارتی ٹیم نے آغاز ہی سے اپنی…