راجستھان میں 10 جون کو روی پرکاش مہردا کی بطور قائم مقام ڈائریکٹر جنرل پولیس (ڈی جی پی) تقرری، جو ابتدا میں ایک معمولی انتظامی فیصلہ معلوم ہو رہی تھی، اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ مہردا نے اتکل رنجن ساہو کی جگہ چارج سنبھالا تھا، جنھیں راجستھان پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مہردا 30 جون کو ریٹائر ہونے والے ہیں، اس لیے ان کی تقرری کو ابتدا میں محض 20 دن کی عبوری تعیناتی سمجھا گیا تھا، تاہم اب ان کی مدت میں توسیع کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے اور یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ چوں کہ سینئر آئی پی ایس افسر روی پرکاش مہردا کا تعلق دلت برادری سے ہے، لہٰذا ان کی تقرری کو دلت نمائندگی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔ ان کی مختصر تعیناتی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے دلت تنظیموں، ریٹائرڈ آئی پی ایس افسران، سماجی کارکنوں اور بی جے پی لیڈران نے ان کی مدت میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعظم مودی کو بھی لکھا گیا ہے خط
ان کی مدت میں توسیع کے حامیوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما اور بی جے پی قیادت کو خط، ای میلز اور سوشل میڈیا مہم کے ذریعے درخواستیں بھیجی ہیں۔ واضح رہے کہ آئی پی ایس مہردا نے خود بھی مختصر مدت کے باعث اس عہدے پر فائز ہونے میں ہچکچاہٹ ظاہر کی تھی، تاہم حکومت نے سیاسی حکمت عملی کے تحت ان کی تقرری کو آگے بڑھایا۔
ادھر ریاستی حکومت نے مستقل ڈی جی پی کے انتخاب کے لیے سات سینئر آئی پی ایس افسران کی فہرست مرکز کو بھیج دی ہے۔ یو پی ایس سی اس میں سے تین نام منتخب کرے گا، جن میں سے کسی ایک کے انتخاب کا حتمی فیصلہ ریاستی حکومت کرے گی۔ تاہم آل انڈیا سروسز رولز کے تحت مرکز کی منظوری سے روی پرکاش مہردا کو تین ماہ کی توسیع دی جا سکتی ہے۔ لہٰذا ان کی توسیع کا مطالبہ کرنے والے اسی قاعدے کا حوالہ دے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
اس سے قبل وائلڈ کارڈ انٹری کرنے والے نکول دُل کو بھی بگ باس کے…
لال کرشن اڈوانی ملک کے سینئر سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا سیاسی…
یہ دردناک واقعہ گریٹر نوئیڈا کے ربوپورہ تھانہ علاقے کے تحت آنے والے گاؤں نگلا…
مہا سپتمی کے موقع پر عقیدت مند نو پودوں کے مجموعے، نوپتریکا، کو نصب کرتے…
مذہبی تقریبات کے علاوہ ویشالی کالی باڑی میں ہر روز شام 7:30 بجے شام کی…
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامی حکام موقع پر پہنچ گئے اور راحت…