قومی

Maharashtra Deputy Chief Minister Ajit Pawar: ڈپٹی سی ایم اجیت پوار کے بیان پر مہاراشٹرمیں سیاسی ہلچل، کہا- آپ کے پاس ووٹ تو میرے پاس فنڈ

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور این سی پی (اجیت پوار دھڑے) کے سربراہ اجیت پوار نے مالیگاؤں کے ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسا بیان دیا، جس پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بارامتی تحصیل میں مالیگاؤں نگر پنچایت انتخابی مہم کے دوران اجیت پوار نے کہا کہ اگر ووٹر ان کی پارٹی کے امیدواروں کو منتخب کرتے ہیں تو وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ شہر میں فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن اگر لوگ ان کے امیدواروں کو مسترد کرتے ہیں تو وہ بھی اسی انداز میں جواب دیں گے۔

ڈپٹی سی ایم اجیت پوار نے کہا، “اگر آپ این سی پی کے تمام 18 امیدواروں کو منتخب کرتے ہیں، میں وعدہ کرتا ہوں کہ شہر میں فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہوگی، آپ کے پاس ووٹ ہیں، میرے پاس فنڈز ہیں، اگر آپ تمام 18 امیدواروں کو منتخب کرتے ہیں،تو میں اپنے تمام وعدوں کو پورا کروں گا، لیکن اگر آپ ہمیں منتخب نہیں کرتے ہیں تو میں بھی انکار کروں گا”۔

امباداس نے کہا، “فنڈز عوام کے ٹیکسوں سے آتے ہیں۔” اطلاعات کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب پوار مہاراشٹر حکومت میں وزیر خزانہ بھی ہیں۔ ان کے بیان نے اپوزیشن کو ناراض کردیا ہے، انہوں نے اسے “ووٹرز کو ڈرانے کی کوشش” قرار دیا۔ شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر امباداس دانوے نے پوار پر براہ راست الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز اجیت پوار کے گھر سے نہیں آتے ،بلکہ عوام کے ٹیکسوں سے آتے ہیں۔ ایک ذمہ دار رہنما کی طرف سے ووٹرز کو اس طرح کی دھمکیاں جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ الیکشن کمیشن اس معاملے پر کیا ایکشن لے رہا ہے؟

الیکشن کمیشن کو پوار کے بیان کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ امباداس دانوے نے مزید کہا کہ یہ بیان انتظامی مشینری کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتا ہے اور انتخابی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ غور طلب ہے کہ مالیگاؤں نگر پنچایت انتخابات 2 دسمبر کو ہونے والے ہیں، جہاں اجیت پوار کی این سی پی نے بی جے پی کے حمایت یافتہ پینل کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ پوار کے اس بیان کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے، کیونکہ اپوزیشن اسے ووٹروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔

پوار کے بیان نے انتخابی بحث کو نیا موڑ دیا

انتخابات قریب آتے ہی تمام پارٹیاں سرگرم ہیں، لیکن اجیت پوار کے بیان نے انتخابی بحث کو نیا موڑ دے دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے پوار کی حکمت عملی کا حصہ مان رہے ہیں لیکن وہ اسے ایک ایسا بیان بھی قرار دے رہے ہیں،جو جمہوری عمل پر سوال اٹھاتا ہے۔ اب سب کی نظریں الیکشن کمیشن کے ردعمل اور ممکنہ کارروائی پر ہیں۔ انتخابی عمل کے درمیان اس طرح کے بیانات نے انتخابی شفافیت اور منصفانہ ہونے کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

4 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

5 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

5 hours ago