دہلی فسادات کے ملزم شاداب احمد کی ضمانت عرضی پر دہلی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے فروری 2020 میں دہلی فسادات سے متعلق سازش کیس کے ملزم شاداب احمد کی درخواست ضمانت پراپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ یہ معاملہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اورنیشنل رجسٹرآف سٹیزن (این آرسی) کے خلاف مظاہروں کے دوران شمال مشرقی دہلی میں تشدد سے متعلق ہے، جس میں 53 افراد ہلاک اور700 سے زائد زخمی ہوئے۔ دہلی پولیس نے شاداب احمد کے خلاف غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی یواے پی اے کے تحت عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ شاداب احمد پرفروری 2020 میں دہلی فسادات کے پیچھے مبینہ بڑی سازش کا حصہ ہونے کا الزام ہے۔ دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ فسادات سی اے اے اوراین آرسی کے خلاف مظاہروں کے دوران منصوبہ بند طریقے سے بھڑکائے گئے تھے۔ آپ کو بتا دیں کہ شاداب احمد کوجون 2020 میں گرفتارکیا گیا تھا اورتب سے وہ زیرحراست ہے۔ ان کے خلاف یو اے پی اے کی دفعہ 13، 16، 17، 18 کے ساتھ ساتھ تعزیرات ہند (آئی پی سی) اورآرمس ایکٹ کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ میں سماعت مکمل
ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس نوین چاولہ اورجسٹس شیلندرکورکی ڈویژن بنچ نے دہلی پولیس اورشاداب احمد کے وکلاء کے دلائل سنے۔ دہلی پولیس کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرامیت پرساد نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوچی سمجھی سازش کا معاملہ ہے، جس سے قومی سلامتی متاثرہوتی ہے۔ ساتھ ہی شاداب کے وکلاء نے طویل حراست اورمقدمے کی سماعت میں تاخیرکا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ 10 جولائی کوسماعت مکمل ہوئی۔ آپ کوبتا دیں کہ شاداب کی اس درخواست پرفیصلہ جلد متوقع ہے۔
اس سارے معاملے میں کون کون ملوث ہے؟
اس کیس میں شاداب احمد کے ساتھ شرجیل امام، عمرخالد، گلفشاں فاطمہ، خالد سیفی اوردیگرکوبھی ملزم بنایا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے، جیسے جے این یوکی طالبات دیونگنا کلیتا، نتاشا نروال اورجامعہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا۔ تاہم ہائی کورٹ نے عمرخالد اورشرجیل امام کی درخواست ضمانت پرفیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں تاخیرپرکیا تھا اظہارتشویش
دہلی ہائی کورٹ جلد ہی شاداب احمد کی ضمانت پرفیصلہ سنائے گی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں ٹرائل شروع کرنے میں تاخیر اور کئی ملزمین کی طویل حراست پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ نہ صرف قانونی بلکہ سماجی اورسیاسی نقطہ نظرسے بھی اہم ہے، کیونکہ یہ آزادی اظہاراوریو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے استعمال پر سوالات اٹھاتا ہے۔
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…
انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…