جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے ادے پور فائلز کی ریلیز پر پابندی لگا دی ہے۔
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی کی جانب سے ’ادے پور فائلز‘ نامی ہندی فلم کی نمائش روکنے کے لیئے دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی پٹیشن پرآج لگاتاردوسرے روزبھی چیف جسٹس آف دہلی ہائی کورٹ جسٹس دیوندرکماراپادھیائے اورجسٹس انیش دیال کے سامنے سماعت عمل میں آئی۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا، جس کے مطابق عدالت نے مولانا ارشد مدنی کومرکزی حکومت سے رجوع ہونے کا حکم دیا۔ آنے والے پیرتک ان کو مرکزی حکومت کے منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ ان کے منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ سے رجوع ہونے کی صورت میں ایک ہفتہ کے اندرمرکزی سرکار کوان کی درخواست پرکارروائی کرنا ہوگی۔ عبوری راحت کے لئے بھی بورڈ سے درخواست کی جاسکتی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی عرضی کی سماعت مکمل ہونے تک جاری رہے گی پابندی
عدالت نے کہا کہ مولانا ارشد مدنی کی عرضداشت کی سماعت مکمل ہونے تک ’ادے پور فائلز‘ فلم کی ریلیزپرپابندی رہے گی۔ بحث کے دوران آج سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کوبتایا کہ فلم دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ فلم ریلیزہونے کے قابل ہی نہیں ہے۔ اس فلم میں ہندوستانی مسلمانوں کوبدنام کیا گیا ہے۔ انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ فلم کے ٹریلراورفلم سے چند متنازعہ سین کٹ کئے گئے ہیں جبکہ یہ پوری فلم ہی نفرت پرمبنی ہے، لہٰذا ایسی فلم کی نمائش سے ملک کے امن میں خلل پیدا ہوسکتا ہے۔ اس فلم میں من گھڑت باتیں دکھائی گئی ہیں۔
مولانا ارشد مدنی نے کیا اطمینان کا اظہار
جمعیۃعلماء ہند صدرمولانا ارشد مدنی نے آج کی عدالتی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اطمینان کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم توحتمی فیصلے کے منتظرتھے، لیکن پورے دن تک چلی بحث کے بعد اس کا جوماحصل سامنے آیا ہے، وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قابل اعتراض مناظرکوہٹائے جانے کے بعد بھی اس فلم میں اس طرح کا مواد اب بھی موجود ہے، جوہمارے معاشرے میں منافرت کا زہرگھول سکتا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ فلم کی نمائش پرپابندی اوراس تناظرمیں دوسرے عدالتی احکامات سے بلا شبہ آئین کی بالادستی کواستحکام حاصل ہو اہے اوراس میں یہ پیغام بھی پوشیدہ ہے کہ فن اوراظہارکے آزادی کے نام پرآپ آئینی واخلاقی حدود کو ہرگزتوڑنہیں سکتے۔
فلم کے ذریعہ ایک پوری قوم کو مجرم بنا دیا گیا: مولانا ارشد مدنی
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کچھ دوسری قابل اعتراض فلمیں بھی بنائی گئی ہیں لیکن وہ اتنی گھناؤنی نہیں تھیں،اس فلم میں تو قتل کے ایک واقعے کی آڑمیں ایک پوری قوم کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ہم نے اسی لئے اس کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔ہمیں خوشی ہے کہ ہماری کوشش کامیاب رہی اور ہمیں یقین ہے کہ حتمی فیصلہ بھی ان شاء اللہ ہمارے حق میں آئے گا،یہ فیصلہ صرف فلم پر روک نہیں بلکہ فرقہ پرستوں کے ارادے اور منشا پر روک ہے۔ ہمارے وکلاء خاص طور پر ملک کے ممتاز ترین وکیل کپل سبل عدالت کو یہ باورکرانے میں کامیاب رہے کہ یہ فلم ملک کے تکثیری معاشرے کے لئے کس قدرخطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ اس فلم کے تعلق سے جو فیصلہ آئے گا وہ آئندہ کے لئے بھی ایک نظیر سمجھا جائے گا۔اور دوسرے فلم سازوں کو بھی جو اس طرح فلمیں بناکر فرقہ پرست طاقتوں کو خوش کرنے کی مذموم خواہش کے تحت ملک کے امن و اتحاد اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ایک بڑا سبق ملے گا۔
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…