نئی دہلی: دہلی پولیس نے دہلی کے مکھرجی نگر علاقے میں تقریباً 26 سال پرانے ایک سنسنی خیز قتل و ڈکیتی کیس کا آخرکار پردہ فاش کر دیا ہے۔ یہ معاملہ اتنا پرانا تھا کہ اکثر لوگوں کو یقین ہو چلا تھا کہ اب شاید اس کا کوئی سراغ نہیں ملے گا، لیکن پولیس کی مسلسل کوششوں اور جدید تکنیکی تحقیقات کے ذریعے کلیدی ملزم کو بہار سے گرفتار کر لیا گیا۔
یہ معاملہ سال 2000 میں درج ہوا تھا، جب ایک خاتون کے بے رحمانہ قتل اور لاکھوں روپے کی لوٹ مار کی واردات سامنے آئی تھی۔ اس کیس میں کلیدی ملزم نریش مکھیہ عرف ناگیشور مکھیہ طویل عرصے سے مفرور تھا اور عدالت اسے پہلے ہی ’مفرور مجرم‘ قرار دے چکی تھی۔
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب نریش مکھیہ دہلی میں ایک مکان میں کام کرتا تھا۔ اسی عمارت کی دوسری منزل پر ایک خاندان رہتا تھا، جہاں آشا چھابڑا نامی خاتون مقیم تھیں۔ ملزم کو معلوم ہوا تھا کہ خاتون نے اپنا گھر فروخت کر کے تقریباً 35 سے 40 لاکھ روپے نقد گھر میں رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر لوٹ کی منصوبہ بندی کی۔ جنوری کے ایک دن وہ سب موقع پر پہنچے، اس وقت گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ملزم خاموشی سے اندر داخل ہوا اور الماری کھولنے لگا۔ اسی دوران خاتون وہاں آ گئیں اور شور مچا دیا۔
شور سن کر ملزمان نے خاتون کو قابو کر لیا اور ٹیلی فون کے تار سے گلا گھونٹ کر ان کا قتل کر دیا۔ قتل کے بعد ملزم اور اس کے ساتھی الماری سے تقریباً 8 لاکھ روپے اور دیگر قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئے۔
یہ کیس برسوں تک حل نہ ہو سکا۔ پولیس نے کئی بار تحقیقات کی کوشش کی، لیکن ملزم مسلسل اپنی جگہ تبدیل کرتا رہا۔ وہ کبھی سلی گوڑی، پھر کولکتہ، اس کے بعد احمد آباد میں رہا اور آخرکار بہار کے سمستی پور ضلع میں جا کر رہنے لگا۔
حال ہی میں پولیس کی ایک خصوصی ٹیم، جس کی قیادت انسپکٹر پکھراج سنگھ کر رہے تھے، نے اس پرانے کیس کی دوبارہ جانچ شروع کی۔ اے ایس آئی پردیپ اور ہیڈ کانسٹیبل نریندر کی اطلاع پر ٹیم نے تکنیکی نگرانی اور مقامی خفیہ معلومات کی مدد سے ملزم کی لوکیشن کا پتہ لگایا۔
2 مئی 2026 کو ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں ایس آئی نیرنجن، اے ایس آئی پون، ہیڈ کانسٹیبل سچن، مکیش، وکرانت اور کانسٹیبل منوج شامل تھے۔ ٹیم نے بہار کے سمستی پور ضلع کے سنگھیا تھانہ علاقے کے مامور پور گاؤں میں چھاپہ مارا اور ملزم کو کامیابی کے ساتھ گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کے وقت ملزم سادہ زندگی گزار رہا تھا۔ وہ پہلے مزدوری کرتا تھا اور گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے گاؤں میں ایک چھوٹی کریانہ دکان چلا رہا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ شراب کا عادی تھا اور کئی سالوں تک اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرتا رہا تاکہ پولیس سے بچ سکے۔
بھارت ایکسپریس۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق، کئی ممالک کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات…
سمندری راستے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان…
جنتر منتر پر احتجاج کے پیش نظر ہوٹل لی میریڈیئن کے قریب واقع گول چکر…
سی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپنی تحریک…
نسلی امتیاز کے باعث بھارتی نژاد خاندانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع…
دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…