قومی

Delhi Riots 2020 Case : ’ڈونالڈ ٹرمپ جب بھارت دورے پر ہوں گے، تبھی احتجاج کریں گے…‘، سپریم کورٹ میں پولیس نے بتایا- فساد کوئی اتفاق نہیں، منصوبہ بند سازش تھی

نئی دہلی: 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق کیس میں مرکزی ملزم شرجیل امام سمیت چھ ملزمین کی ضمانت درخواستوں پر جمعرات کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ضمانت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کوئی عام مظاہرہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک منظم اور سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا، جس کا مقصد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت دورے کے دوران ملک کی ساکھ کو عالمی سطح پر بدنام کرنا اور انتظامیہ پر دباؤ بنانا تھا۔

سازش تھی- جب ٹرمپ ہندوستان میں ہوں گے، تبھی احتجاج کریں گے
عدالت میں دلیل پیش کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا کہ احتجاج کی ٹائمنگ خود ثابت کرتی ہے کہ یہ مظاہرہ محض اتفاق نہیں تھا۔ ”شاہین باغ میں احتجاج کے لیے ٹرمپ کے دورے کے دوران جان بوجھ کر منتخب کیا گیا تھا۔ اس کی پوری منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی تاکہ دنیا کی نظر بھارت پر ہو اور ملک میں شورش کی تصویر پیش کی جائے“۔

پولیس کا الزام: دہلی کی سپلائی لائن کاٹنے کی تھی سازش
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے اپنی پیش کردہ ویڈیو کلپس اور دیگر ثبوتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شرجیل امام کے تقریری مواد سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مظاہرین کا مقصد دہلی کی سپلائی لائن کاٹ کر اقتصادی انتشار پیدا کرنا تھا۔ پولیس کے مطابق فسادیوں کا نشانہ خاص طور پر وہ راستے تھے جو شمال مشرقی ریاستوں کو باقی ملک سے جوڑتے ہیں، جنہیں ’’چکن نیک‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ شرجیل امام کی تقریروں میں صاف طور پر آسام کو بھارت سے الگ کرنے، بڑے پیمانے پر سول نافرمانی اور کشمیر، تین طلاق اور رام مندر جیسے حساس موضوعات پر اشتعال دلانے کی اپیل موجود ہے۔ ایک ویڈیو میں امام کو عدالت کے خلاف سنگین لہجے میں کہتے سنا گیا کہ ”ہم کورٹ کو نانی یاد دلا دیں گے“۔

فسادات میں 53 افراد کی جان گئی
یاد رہے کہ فروری 2020 میں دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں ہونے والے تشدد میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے الزام لگایا کہ ان احتجاج کی اصل نیت ضروری اشیاء کی ترسیل روک کر ریاستی نظام کو مفلوج کرنا اور ملک کی معیشت اور قانون و نظم کو غیر مستحکم کرنا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ کیا پولیس کا موقف ہے کہ شرجیل امام لوگوں کو تشدد پر اکسا رہے تھے؟ جس پر ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے جواب دیا کہ ”جی ہاں، یہ واضح اشتعال انگیزی تھی، نہ کہ پُرامن احتجاج“۔ سپریم کورٹ نے فریقین کو سننے کے بعد شرجیل امام اور دیگر ملزمین کی ضمانت درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Dipke on detention of Ranka and Sourav: ’’جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے…‘‘، رانکا-سورو داس کی حراست پر ابھیجیت دیپکے کا ردعمل

ابھیجیت دیپکے نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے اور…

20 minutes ago

Two more FIRs registered regarding the INDIA bloc: انڈیا اتحاد کے احتجاج پر دو مزید ایف آئی آر در، جانئے کن لیڈروں کے نام ہیں شامل؟

ووٹ چوری کے الزامات اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے…

36 minutes ago