قومی

Delhi Districts Expansion: دہلی میں انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی: اب دہلی میں 11 نہیں بلکہ 13 اضلاع ہوں گے، نئے اضلاع اور علاقوں کی مکمل فہرست جاری

نئی دہلی: دہلی حکومت نے بدھ کے روز ایک اہم اور تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے دارالحکومت کے انتظامی نقشے میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اب تک 11 اضلاع پر مشتمل دہلی کو از سرِ نو منظم کرتے ہوئے اسے 13 اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد شہریوں کو تیز، آسان اور مؤثر سرکاری خدمات فراہم کرنا ہے۔ نئے اضلاع کے ساتھ دارالحکومت میں انتظامی بوجھ کم ہوگا اور ہر علاقے میں بہتر نگرانی و سہولتیں فراہم کی جا سکیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے واضح کیا کہ اب ریونیو اضلاع اور میونسپل حدود کو یکساں کر دیا جائے گا تاکہ انتظامی ہم آہنگی میں اضافہ ہو۔

بہتر حکمرانی کی طرف اہم قدم
پہلے دہلی 11 اضلاع میں تقسیم تھی، مگر بڑھتی آبادی اور تیزی سے پھیلتے شہری علاقوں نے حکومتی مشینری پر اضافی دباؤ ڈالا۔ نیا ڈھانچہ افسران کی بہتر تعیناتی اور خدمات کی تیز تر فراہمی کو ممکن بنائے گا۔ پیدائش و وفات سرٹیفکیٹ، رجسٹری، پراپرٹی سے متعلق امور اور دیگر ضروری خدمات اب پہلے سے بھی زیادہ مؤثر انداز میں انجام دی جا سکیں گی، جس سے شہریوں کو لمبی قطاروں اور وقت کی بربادی سے نجات ملے گی۔

نئے اضلاع اور سب ڈویژنز کی مکمل فہرست
حکومت کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق اب دہلی کے 13 اضلاع درج ذیل ہوں گے:
جنوب مشرقی ضلع: جنگ پورہ، کالکا جی، بدّرپور
پرانی دہلی ضلع: صدر بازار، چاندنی چوک
شمالی ضلع: بُراڑی، آدرش نگر، بادلی
نئی دہلی ضلع: دہلی کینٹ، نئی دہلی کے مرکزی علاقے
وسطی ضلع: پٹیل نگر، کرول باغ
وسطی شمالی ضلع: سکّر بستی، شالیمار باغ، ماڈل ٹاؤن
جنوب مغربی ضلع: نجف گڑھ، مٹیالا، دوارکا، بِجوَاسَن
باہری شمالی ضلع: مُنڈکا، نریلا، بوانا
شمال مغربی ضلع: کراری، ناگ لوئی جاٹ، روہنی
شمال مشرقی ضلع: کراول نگر، گوکل پوری، یمنا وہار، شاہدرہ
مشرقی ضلع: گاندھی نگر، وشواس نگر، پٹپڑگنج
جنوبی ضلع: چھترپور، مالویہ نگر، دیولی، مہرولی
مغربی ضلع: وکاس پوری، جنک پوری، راجوری گارڈن

شہریوں کے لیے بڑا فائدہ
نئے انتظامی ڈھانچے سے دہلی کے تقریباً دو کروڑ شہریوں کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔ ہر ضلع میں پولیس، صحت، تعلیم، اور دیگر سرکاری محکموں کا نظم مزید مضبوط ہوگا۔ حکومت جلد ہی نئے نقشے کی تفصیلات بھی جاری کرے گی۔ ماہرین نے اس فیصلے کو دہلی کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولتوں کی ترقی میں اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ یہ قدم دہلی کو ایک جدید، اسمارٹ اور مثالی شہر بنانے کی سمت ایک مضبوط پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

18 minutes ago

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

51 minutes ago

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…

1 hour ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

2 hours ago