دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے ایک بڑا اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے ”نو پی یو سی، نو فیول“ اصول کو پوری سختی کے ساتھ نافذ کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی ہدایت کے بعد اب ایسے تمام گاڑی مالکان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کے پاس درست پولوشن انڈر کنٹرول (پی یو سی) سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہے۔ اس نئے حکم کے مطابق بغیر درست پی یو سی کے کسی بھی گاڑی کو پٹرول، ڈیزل یا سی این جی فراہم نہیں کی جائے گی۔ حکومت کا یہ فیصلہ دہلی میں مسلسل بگڑتے ہوئے فضائی معیار کے پیش نظر لیا گیا ہے، جہاں آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے واضح طور پر کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں اور عوام کو بھی اس میں اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے پر سنجیدہ ہے اور ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے تاکہ دہلی کی ہوا کو صاف کیا جا سکے۔
یہ اصول دراصل گزشتہ سال دسمبر میں متعارف کرایا گیا تھا، لیکن اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔ کئی گاڑیاں بغیر پی یو سی سرٹیفکیٹ کے سڑکوں پر چل رہی تھیں اور آلودگی میں اضافہ کر رہی تھیں۔ اب حکومت نے اس پر سختی سے عمل کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ تمام پٹرول پمپوں اور گیس اسٹیشنز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف انہی گاڑیوں کو ایندھن فراہم کریں جن کے پاس درست اور تازہ پی یو سی سرٹیفکیٹ ہو۔ اس اصول پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوڈ اینڈ سپلائی محکمہ، ٹرانسپورٹ محکمہ، میونسپل کارپوریشن اور دہلی ٹریفک پولیس کو مشترکہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا نرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومت نے اس بات کی بھی سخت وارننگ دی ہے کہ اگر کوئی پٹرول پمپ اس حکم کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسی طرح ایسے گاڑی مالکان جو بغیر پی یو سی کے گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے جائیں گے، ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ بار بار خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی ضبط کرنے جیسے سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اس نئے قانون کے نافذ ہوتے ہی دہلی کے مختلف پیٹرول پمپوں پر افراتفری کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ بڑی تعداد میں ایسے گاڑی مالکان جن کے پاس پی یو سی سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا، انہیں خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔ کئی مقامات پر لمبی قطاریں بھی دیکھی گئیں جہاں لوگ اپنے کاغذات کی جانچ کے بعد ہی ایندھن حاصل کر پا رہے تھے۔
حکومت نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر رکھے ہیں، تاہم یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اب کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنی گاڑیوں کا پی یو سی سرٹیفکیٹ بنوائیں اور اسے اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس اصول پر سختی سے عمل کیا گیا تو دہلی میں فضائی آلودگی کو کم کرنے میں خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔ حکومت کا یہ قدم نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس دلانے کی ایک کوشش ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…