نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی کے مکند پور علاقے میں منگل کی صبح ایک خوفناک حادثہ پیش آیا، جب مبینہ طور پر گیس سلنڈر کے زوردار دھماکے سے ایک مکان منہدم ہو گیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا علاقہ لرز اٹھا اور مقامی لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حادثے کے بعد ہر طرف چیخ و پکار، گرد و غبار اور ملبے کے ڈھیر نظر آنے لگے، جبکہ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جس عمارت میں دھماکہ ہوا وہاں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر گیس سلنڈروں کی سپلائی، ری فلنگ اور ذخیرہ اندوزی کا کام کیا جا رہا تھا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ عمارت میں بڑی تعداد میں سلنڈر رکھے جاتے تھے اور طویل عرصے سے یہ سرگرمیاں جاری تھیں۔ حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ابتدائی طور پر سلنڈر دھماکے کو ہی حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق صبح تقریباً 9 بج کر 37 منٹ پر حادثے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد پانچ فائر ٹینڈرز کو موقع پر روانہ کیا گیا۔ امدادی کارکنوں اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے پہنچتے ہی ملبہ ہٹانے اور متاثرین کو نکالنے کا کام شروع کر دیا۔ ریسکیو ٹیمیں کئی گھنٹوں تک مسلسل کارروائی میں مصروف رہیں کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کچھ افراد ابھی بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ لوگوں کو ابتدا میں زلزلہ آنے کا گمان ہوا۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ وہ اپنے گھر میں صبح کی چائے پی رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی۔ دھماکے کے ساتھ ہی زمین اور عمارتیں لرزنے لگیں۔ انہوں نے بتایا کہ خوف کے عالم میں انہوں نے اپنی آٹھ ماہ کی بچی کو گود میں اٹھایا اور فوری طور پر گھر سے باہر نکل آئے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد منظر کسی قدرتی آفت سے کم نہیں تھا۔ کئی قریبی گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں جبکہ گھروں کے اندر رکھا سامان بھی بکھر گیا۔ حادثے میں ایک مرد اور ایک خاتون شدید زخمی ہوئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر چھ افراد کو ملبے سے نکال کر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد مقامی سیاسی لیڈروں نے بھی انتظامیہ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سابق کونسلر اجے شرما نے الزام لگایا کہ ایشو وہار علاقے میں تقریباً 200 مربع گز پر مشتمل ایک عمارت میں کافی عرصے سے غیر قانونی طور پر سلنڈروں کا کاروبار چل رہا تھا۔ ان کے مطابق یہاں سلنڈروں کی سپلائی، ذخیرہ اندوزی اور ری فلنگ کا کام بغیر کسی قانونی اجازت کے انجام دیا جا رہا تھا، جو اس بڑے حادثے کی ممکنہ وجہ بن سکتا ہے۔
اجے شرما نے مزید دعویٰ کیا کہ مکند پور میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی تین ایسے حادثات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ رہائشی علاقے میں خطرناک اور غیر قانونی سرگرمیاں آخر کس کی سرپرستی میں چل رہی تھیں۔ مقامی باشندوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا غیر قانونی سرگرمی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…