قومی

Delhi jhuggi fire: مالویہ نگر، لکھنؤ کے بعد اب دہلی کے ادیوگ بھون کے قریب آگ کے شعلوں میں تبدیل ہو گئیں جھگیاں ، آخر کب تک معصوم زندگیاں ہوتی  رہیں گی ناقص نظام کی ناکامی کا شکار؟

ملک کی راجدھانی دہلی سے لے کر اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ تک اس وقت شہروں میں لگنے والی آگ اور آتشزدگی کے واقعات کا ایک نہایت خوفناک اور تشویشناک سلسلہ سامنے آ رہا ہے۔ آج علی الصبح دہلی کے وی وی آئی پی اور انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقے ادیوگ بھون کے قریب واقع مزدوروں کی جھگیوں میں اچانک بھیانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔آگ کے شعلے اتنے ہولناک تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں عارضی آشیانے جل کر خاکستر ہو گئے۔ موقع پر پہنچنے والی فائر بریگیڈ کی 20 گاڑیوں نے طویل جدوجہد کے بعد صبح تقریباً 5:30 بجے آگ پر قابو پایا، لیکن اس حادثے نے دہلی کے مالویہ نگر اور لکھنؤ میں پیش آنے والے حالیہ سانحات کی یاد تازہ کر دی۔

ادیوگ بھون کے قریب جھگیاں خاکستر

دہلی فائر سروس (DFS) کے حکام کے مطابق ابتدائی جانچ میں آگ لگنے کی وجہ ایک الیکٹرک پینل میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ بیشتر جھگیاں پلاسٹک، لکڑی اور دیگر عارضی مواد سے بنی ہوئی تھیں، اس لیے آگ نے چند ہی منٹوں میں خطرناک شکل اختیار کر لی۔اطمینان کی بات یہ رہی کہ علی الصبح مچی چیخ و پکار کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ فی الحال فائر ڈپارٹمنٹ نقصان کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے۔

والمیکی بستی سے مالویہ نگر تک خوف کی فضا

دہلی میں آگ کا یہ تباہ کن واقعہ کوئی پہلا حادثہ نہیں ہے۔ صرف دو روز قبل پیر کی رات مولانا آزاد میڈیکل کالج کے پیچھے واقع والمیکی بستی (تکیہ کالے خاں) میں بھی ایسی ہی ہولناک آگ لگی تھی، جہاں رہائشی جھگیوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے پلائی ووڈ اور لکڑی کے باعث 24 فائر ٹینڈروں کو آگ بجھانے کے لیے سخت مشقت کرنا پڑی تھی۔اتنا ہی نہیں، دارالحکومت کے لوگ ابھی تک مالویہ نگر کے اس مشہور آتشزدگی کے واقعے کو نہیں بھولے ہیں، جہاں تنگ گلیوں اور آتش گیر سامان کی موجودگی نے پورے علاقے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا۔

فائر این او سی پر ملک بھر میں ہنگامہ

ادیوگ بھون کے قریب پیش آنے والے اس واقعے نے حفاظتی معیارات پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ پیر کے روز ہی لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں ایک کوچنگ ادارے میں ہونے والے المناک آتشزدگی کے بعد پورے اتر پردیش اور دہلی میں فائر این او سی (Fire NOC) اور غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے۔ اسی مہم کے تحت پریاگ راج میں خان سر کی کوچنگ تک سیل کی جا چکی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ چاہے لکھنؤ کا رہائشی و کوچنگ علاقہ ہو، دہلی کا مالویہ نگر ہو یا ادیوگ بھون کے قریب واقع مزدوروں کی یہ بستی، غیر قانونی برقی لوڈ، تنگ گلیاں اور فائر سیفٹی اصولوں کو نظرانداز کرنا ہی ایسے حادثات کی اصل وجوہات ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi’s 25 years in public life: مودی کے 25 سالہ عوامی سفر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو شہریوں کی ضروریات سے جوڑا گیا- راجیو گوبا

راجیو گوبا نے کہا کہ پہلے بنیادی ڈھانچے کی ترقی مختلف محکموں اور وزارتوں کی…

19 minutes ago

BRICS Parliamentary Forum: برکس پارلیمانی فورم کے افتتاحی اجلاس میں پہنچے وزیراعظم مودی، غیر ملکی وفود کا کیا استقبال

دو روزہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی ہندوستانی پارلیمنٹ کررہی ہے۔ اس میں برکس…

31 minutes ago

Rahul Gandhi Wins 2018 Defamation Case: راہل گاندھی 6 سال بعد ہتکِ عزت کے مقدمے میں کیسے ہوئے بری؟ یہ 2 نکات بنے اہم

سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں راہل گاندھی کارروائی شروع ہونے…

1 hour ago

Setback for Team India: ٹیم انڈیا کو جھٹکا، نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی 20 میچ سے بھی باہر ہوئے ایشان کشن

ایشان کشن کی جگہ دوسرے ٹی 20 میچ میں ویبھَو سوریہ ونشی کو پلیئنگ الیون…

3 hours ago