مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ) میں امن کی بحالی کی کوششوں کے دوران ایک بار پھر دنیا کے دو بڑے حریف، امریکہ اور ایران، آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں جاری انتہائی خفیہ اور اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے بیانات میں ایسا تضاد سامنے آیا ہے جس نے عالمی دفاعی ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پنسلوانیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سخت اور طویل مدتی جوہری معائنے قبول کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب تہران نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا ہے، جس کے بعد جاری مذاکرات کی کامیابی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ: ایران نے سخت جوہری معائنے مان لیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور ایک پریس کانفرنس میں جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے پسِ پردہ مذاکرات میں امریکی شرائط تسلیم کر لی ہیں اور جوہری تنصیبات کے سخت معائنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے بند کمرے کی بات چیت میں خود اس بات کی تصدیق کی تھی اور امریکہ کے پاس اس کے مکمل شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے موجودہ انکاری بیانات درست ہوتے تو وہ فوری طور پر مذاکرات ختم کر دیتے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران، مہنگائی اور غذائی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہے، اس لیے اس کے پاس سمجھوتے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
تہران کا جواب: امریکہ گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہا ہے
دوسری جانب ایرانی حکام نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک منظم پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری معائنوں کے حوالے سے کوئی نئی شرط یا امریکی دباؤ قبول نہیں کیا۔ایرانی حکام کے مطابق ایران کا تعاون صرف پہلے سے طے شدہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے دائرے میں جاری رہے گا۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ بند کمرے میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں آخر کون سچ بول رہا ہے اور کون حقائق کو اپنے حق میں پیش کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز پر 60 روزہ مہلت برقرار
اس بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈیوں کے لیے ایک مثبت خبر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کسی قسم کی بحری ناکہ بندی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔تاہم امریکہ اور ایران نے آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک مستقل معاہدے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ لیکن جوہری معائنوں، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور یورینیم افزودگی کی حدود جیسے اہم معاملات پر دونوں ممالک کے سخت مؤقف کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی یہ چنگاری کسی بھی وقت دوبارہ بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…
سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…
مہاراشٹر کے ہنگولی شہر میں پیر کی رات ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے…
تعلیمی سیشن 27-2026 سے RBSE کی 10ویں جماعت کے طلبہ کو سال میں دو مرتبہ…
موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…
لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…